تربت، محراب پندرانی کے قتل کیخلاف تربت پریس کلب کے سامنے احتجاج
تربت (نمائندہ انتخاب) تربت سول سوسائٹی کے زیر اہتمام محراب پندرانی کے بہیمانہ قتل کے خلاف جمعرات کے روز تربت پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر محراب پندرانی کے قتل کی تحقیقات اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا تھا، مظاہرہ سے تربت سول سوسائٹی کے کنوینر کامریڈ گلزار دوست نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محراب پندرانی بلوچستان کا وہ محکوم شناخت ہے جس پر مقتدرہ کی طاقت سے سرمایہ دار اور سردار برسوں سے قابض ہیں اور اپنی ظالمانہ قوت سے ریاست اور اس کے اداروں کو غلام بنا کر قومی محکومیت کو دوام بخش رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان کسی سرمایہ دار اور سردار کی باج گزار نہیں بلکہ بلوچ عوام کی سرزمین ہے مقتدرہ نے قوت آزمائی کے لیے انہیں عام لوگوں پر مسلط کردیا ہے اور یہ ہر طرح کی قانون سے بالاتر ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک محراب پندرانی کو انصاف فراہم نہیں کیا جاتا پورا بلوچستان اس پر سراپا احتجاج رہے گا، مظاہرہ سے آل پارٹیز کیچ کے کنوینر مشکور انور ایڈوکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محراب پندرانی ہو یا بلوچستان کا کوئی اور بچہ اس کے بہیمانہ قتل کے خلاف سیاسی جماعتیں خاموش نہیں رہیں گی، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتل چاہے کتنے بااثر کیوں نہ ہوں ان کو فوراً گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق عدالت میں پیش کرکے سزا و جزا کا فیصلہ کیا جائے، انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کسی سردار اور سرمایہ دار کو اپنی اجارہ داری کی اجازت نہیں دیں گے، مظاہرہ سے کیچ سول سوسائٹی کے کنوینر التاز سخی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ دارانہ سوچ کی نحوست سے مظلوم اور محکوم عوام رل رہے ہیں، ایک سرمایہ دار نے غریب بچے کو تشدد سے ہلاک کردیا مگر وہ اب تک آزاد گھوم رہا ہے اور اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے تمام ادارے اس کے سامنے بے بس ہیں، انہوں نے کہا کہ جب تک سماج کو فکری بنیاد فراہم کرکے سردار اور سرمایہ دار کے چنگل سے نجات نہیں دلایا جاتا محکوم اور مظلوم لوگ اسی طرح پستے رہ جائیں گے، مظاہرہ سے بی ایس او پجار کے صوبائی جنرل سیکرٹری عابد عمر، بی ایس او کے ضلعی صدر بالاچ طاہر اور بی ایس اوکے مرکزی رہنما ظفر رند نے بھی خطاب کیا جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض تربت سول سوسائٹی کے کارکن احد الہٰی نے سر انجام دئیے۔


