زیارت دھماکہ، جاں بحق افراد کے لواحقین کا لا شوں کے ہمراہ دھرنا

کوئٹہ:زیارت ہرنائی کراس پر مانگی ڈیم کے دلخراش واقعے کے خلاف دوسرے روز بھی شہدا کے لواحقین اور عوام کی جانب سے شہدا کے لاشوں کے ہمرا احتجاجی دھرنا جاری، احجاجی دھرنے میں قبائلی، سیاسی و سماجی شخصیات نواب آیاز خان جوگیزئی، سردار قاسم خان سارنگزئی، حاجی دلاور خان کاکڑ، حاجی نصیراحمد کاکڑ، عبیداللہ بابت، خوشحال کاکڑ، ملک منور پانیزئی، ملک نورزمان، ملک شاہ زمان، ملک نورزمان پانیزئی، صاحبزادہ محب اللہ، خدائے دوست خان کاکڑ، مابت کاکا، مولوی نورالحق، سردار میروائس خان سارنگزئی، سردار حبیب الرحمن دمڑ، ملک حبیب الرحمن سارنگزئی، ملک گل رنگ زیب کاکڑ، مزمل کاکڑ، ملک اجمل پانیزئی، محمد یعقوب کاکڑ، نجیب اللہ پانیزئی، حافظ کفایت اللہ، ولی داد میانی، میرعالم افغان، ملک ظاہر کاکڑ، کاشف پانیزئی ایڈوکیٹ، جمیل پشتون، محمد نعیم پانیزئی، ڈاکٹر عنایت کاکڑ، حافظ کفایت اللہ، محمود ترین، محمد نسیم کاکڑ، مولوی نوراحمد شاہ، معصوم خان میرزئی اور عوام کی بڑی تعداد موجود۔ احتجاجی دھرنے کے باعث سڑک کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، احتجاجی دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے احتجاجی دھرنا اسی طرح جاری رئیگا۔ یاد رہے کہ صوبائی وزیر حاجی نورمحمد دمڑ بھی دھرنا مظاہرین کے پاس آئے مگر ان کے ساتھ بھی مذاکرات نتیجہ خیز نہیں رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں