خدمت ہمارا شعار ہے، عوام کیلئے ادارے کو فعال بنانا ہوگا، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن
کوئٹہ:صوبائی کابینہ اور سپریم کونسل ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان کا مشترکہ اجلاس چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹر یاسر اچکزئی کی قیادت میں بمورخہ 28 اگست شام 4 بجے سنڈیمن پراونشل ہسپتال میں منعقد ہوا،اجلاس میں ڈاکٹروں کو حالیہ درپیش مشکلات کو زیر بحث لاتے ہوئے باہمی مشاورت سے فیصلے لیے گئے اجلاس میں متفقہ طور پر حالیہ ٹرینی میڈیکل آفیسرز (TMOs) اور کنسلٹنٹس کی صوبے کے ٹرشری ہسپتالوں سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو ٹرانسفرز یکسر مسترد کرتے ہوئے محکمہ صحت سے حالیہ ٹرانسفرز کینسل کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں کو تمام تر سہولیات لیبارٹریز،میڈیسنز، آلات جراحی، آپریشن تھیٹرز، آئی-سی-یوز اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے کا پرزور مطالبہ کیا گیا اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلی بلوچستان و صوبائی سیکریٹری صحت صوبے کے واحد ٹراما اینڈ ایمرجنسی سینٹر میں روزانہ کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا کرنے والی غریب عوام پر رحم کرتے ہوئے اسے ایک فعال ادارہ بنانے کیلئے اقدامات کرے،شہر کے وسط میں واقع یہ خوشنما بلڈنگ کروڑوں روپے فنڈز رکھنے کے باوجود بھی صوبے کی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے سے قاصر ہے سنڈیمن پراونشل ہسپتال دیگر مریضوں کیساتھ ساتھ ٹراما کے مریضوں کا بوجھ بھی سنبھالے ہوئے ہے ٹراما سینٹر انتظامیہ درپیش مشکلات کو منظرعام پہ لانے اور ان کے حل کیلئے کردار ادا کرنے کے بجائے سب اچھا ہے کے گھن گانے میں مشغول ہیں موجودہ محدود وسائل میں ٹراما سینٹر کو فعال کرنے اور غریب عوام کی مشکلات کا مداوا کرنے کا واحد حل ٹراما سینٹر میں سنڈیمن پراونشل ہسپتال سے آن کال سروسز کی فراہمی ہے جس کیلئے موجودہ سیکریٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے جارہے خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں ہیلتھ سسٹم کو تباہ کرنے والا ایم-ٹی-آئی(MTI) اور ٹرشری کیئر ہسپتالوں کی نجکاری کا نظام کسی بھی صورت بلوچستان میں نافذ نہیں ہونے دیں گے صوبائی حکومت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو 2 حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد دونوں محکموں کے دائرہ اختیار تاحال واضع نہیں ہیں جس سے ڈاکٹروں کو روزانہ کی بنیادوں پر مشکلات کا سامنا ہے اور ڈاکٹروں روزانہ کی بنیاد پر دونوں ڈیپارٹمنٹس کے چکر لگائے جاتے ہیں شیخ خلیفہ بن زید ہسپتال میں کنٹریکٹ کی بنیاد پر تعینات کئے جانے والے کنسلٹنٹس تاحال مراعات سے محروم ہیں جوکہ ہیلتھ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی ناقص پالیسی اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ملک کے واحد صوبے کی ڈاکٹرز کمیونٹی آج بھی ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات سے محروم ہے ڈاکٹروں کیلئے رہائشی سکیموں پر تاحال کسی بھی قسم کی کوئی پیش رفت نہ ہوسکیں پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے ٹرینر کے امتحانات عرصہ دراز سے تاخیر کا شکار ہے جس سے ٹرینیز کا قیمتی وقت دانستہ طور پر ضائع کیا جارہا ہے سنڈیمن پراونشل ہسپتال اور بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کے کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹس غیر فعال ہیں جس سے روزانہ کی بنیادوں پر صوبے کے دور دراز علاقوں سے ان ہسپتالوں کا رخ کرنے والے حساس مریض انتہائی مشکلات سے دوچار ہیں،اس کے ساتھ ساتھ دوسرے وارڈز کی حالت بھی انتہائی قابل تشویش ہے پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینٹس اور ہاوس آفیسرز کے ماہانہ وظائف 6 سے 7 ماہ گزر جانے کے بعد بھی جاری نہیں کئے جاتے ماہانہ وظائف کی ماہانہ ادائیگی کیلئے کسی بھی قسم کی کوئی پالیسی وضع نہیں کی گئی ہے صوبے کے ان ٹرشری کیئر ہسپتالوں میں مکمل یکسوئی کیساتھ اپنی خدمات انجام دینے والے پوسٹ گریجویٹ ریزیڈینٹس اور ہاوس آفیسرز 6،7 ماہ تک وظائف سے محروم رہتے ہیں اجلاس متفقہ طور پر مطالبہ کیا گیا کہ وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی سیکریٹری صحت ان مسائل کو حل کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے صوبائی حکومت کی نااہلی اور عدم توجہی ینگ ڈاکٹرز کو احتجاج کی راہ اختیار کرنے پر مجبور کررہی ہیں ان بنیادی مسائل کے حل کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو مستقبل میں انتہائی سخت فیصلے لئے جائیں گے جس کی تمام تر ذمہ داری وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔


