حکومت کو شرم آنی چاہئے کہ و ہ اپنی انتظامیہ کا تحفظ نہیں کرسکتی، مولانا عبدالواسع
کوئٹہ:جمعیت علما اسلام بلوچستان کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع نے کہا کہ پی ڈی ایم کے مرکزی قائدین مستقبل کے حوالے سے جو بھی فیصلہ کریں گے اس پر من و عن عمل کیا جائے گا، ہم سیاست خدمت کے لئے کرتے ہیں، اقتدار اور پارلیمنٹ کے بھوکے نہیں ہیں، زیارت کے شہدا کے ورثا اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے جو مطالبات رکھے گئے ہیں ان کو فوری طور پر حل کیا جائے بصورت دیگر سخت احتجاج کیا جائیگا، بے گناہ اور نہتے لوگوں کے قتل عام پر خاموش نہیں رہیں گے جمعیت علما اسلام ایک سیاسی و مذہبی قوت ہے جنہوں نے ہمیشہ عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم ملک کی سب سے بڑی سیاسی اتحاد ہے اور اس میں وہ تمام سیاسی جماعتیں شامل ہیں جنہوں نے آئین قانون اورپارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے کردار ادا کیا ہے بدقسمتی سے پیپلز پارٹی اور اے این پی نے جس طرح کسی اور کے اشارے پر پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، وقت آنے پر عوام ان سیاسی قوتوں سے ضرور حساب کرے گی، پی ڈی ایم کی سیاسی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو ستر سالوں میں اتنے مشکلات کا سامنانہیں کرنا پڑا جتنا ان تین سالوں میں عوام اور ملک مشکلات کا شکار رہاحکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی جائے گی، حکومت کی 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کریں گے، پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، پیپلز پارٹی اب قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ لواحقین کی جانب سے اس وقت بھی زیارت کراس پر دھرنا جاری ہے اور صوبائی حکومت نے جا ن خلاصی کیلئے لواحقین اور سیاسی جماعتو ں کے ساتھ ملاقات کی اور ملاقات میں دھرنا ختم کرنے کی کوشش کی مگر سیاسی جماعتوں اور لواحقین نے جس انداز میں حکومت کو دو ٹوک الفاظ میں جواب دیا اب صوبائی حکومت کو شرم آنی چاہئے کہ و ہ اپنے ہی فورس کے جوانوں کو تحفظ فراہم نہیں کرسکتی اس لئے اب ان کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ لیویز جوانوں کے لواحقین کی جانب سے چار مطالبات رکھے گئے ہیں ان پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے اورایف سی کو زیارت اور ہرنائی میں جو تعینات کیاگیا ہے اس کو واپس لیا جائے پولیس اور لیویز کو اختیارات دیکر وہاں کے امن وامان کو بحال کیا جائے ڈپٹی کمشنر اور انتظامیہ کے دیگر افیسران کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔


