تفتان کے صحرا میں بھوک پیاس سے مرنے والے ماموں بھانجے کی لاشیں تین ہفتوں سے لاپتہ
کوئٹہ:تفتان کے صحرا میں بھوکے پیاسے مرنے والوں میں 4بچوں کے باپ محمد سجاد اور ان کے 20 سالہ بھانجے حافظ محمد بلال کی بے گورو کفن لاشیں تین ہفتے گزرنے کے باوجود ورثا تک نہ پہنچ سکی۔لواحقین کے مطابق دونوں افراد کی لاشیں پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے تفتان اور نوکنڈی کے درمیان نامعلوم صحرائی مقام پر ہیں مگر انتظامیہ ان لاشوں کی تلاش اور واپسی میں ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔نامعلوم صحرا میں سنسان راستے پر جہاں سایہ تھا اور نہ ہی پانی، دور دور تک کوئی آبادی اور نہ ہی کسی ذی روح کا نام و نشان، انسانی سمگلر نے ہمیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ گرمی اور بھوک و پیاس سے لڑتے ہوئے ہمارے تین ساتھیوں نے دم توڑ دیا۔ دو دن بعد وہاں سے گزرنے والی گاڑی میں سوار افراد ہماری جان نہ بچاتے تو ہمارا انجام بھی شاید مختلف نہ ہوتا۔یہ کہانی ہے پنجاب کے ضلع بھکر کی تحصیل کلور کوٹ کے رہائشی 21 سالہ رانا محمد فیاض اور ان کے ساتھیوں کی جنہیں غیر قانونی طور پر پڑوسی ملک ایران کے راستے یورپ جانے کی کوشش کے دوران انسانی سمگلروں کی بے رحمی کے باعث ایک دردناک اور دل دہلا دینے والے تجربے سے گزرنا پڑا۔اس سفر کے دوران ان کے بہنوئی محمد سجاد، سجاد کے چچا زاد بھائی خلیق الرحمان اور بھانجے حافظ محمد بلال کی موت ہو گئی۔ ان میں سے صرف خلیق الرحمان کی لاش ہی واپس اپنے گھر پہنچ سکی۔ باقی دونوں کے لواحقین اب تک اپنے پیاروں کی لاشوں کی واپسی کے منتظر ہیں۔لواحقین کے مطابق دونوں افراد کی لاشیں پاک ایران سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے تفتان اور نوکنڈی کے درمیان نامعلوم صحرائی مقام پر ہیں جہاں انسانی سمگلروں نے انہیں اضافی رقم نہ دینے پر گاڑی سے اتار کر بے یار و مدگار چھوڑ دیا تھا مگر انتظامیہ ان لاشوں کی تلاش اور واپسی میں ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔چاغی کی ضلعی انتظامیہ نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی تصدیق کی اور بتایا کہ ایک متاثرہ شخص کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی جبکہ دوسرے کی لاش امانتا دفن کردی گئی اور تیسرے کی لاش سے متعلق اب تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا ہے۔واقعہ میں زندہ بچ جانے والے رانا محمد فیاض نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ میں زندہ بچ گیا ہوں۔ موت کو بہت قریب سے دیکھا، ہم پر ایک قیامت گزری۔ گھر آنے کے بعد بھی دل دہلا دینے والے مناظر میرا پیچھا نہیں چھوڑ رہے اور میں اب تک اس سفر کی دہشت سے نہیں نکل سکا ہوں۔


