خضدار،پینے کے پانی کا بحران تشویشناک حد تک نیچے چلا گیا،حکومت نوٹس لے ،زمیندار حلقے

خضدار(بیورورپورٹ)خضدار وگردنواع تحصیلوں میں آبنوشی کے لیے زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی گئی ہے جس کے باعث کئی بورنگ مشینیں خشک ہوگئی ہیں پانی کی شدید قلت کے سبب زرعی زمینیں بنجر ہونے لگی ہیں اور زمینداروں کی فصلیں تباہ ہو رہی ہیں علاقے کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ وہ نسلوں سے زراعت سے وابستہ تھے لیکن اب پانی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنی آبائی زمینیں چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے زمینداروں نے بتایا کہ ایک بور کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے گئے لیکن چند ماہ بعد ہی وہ خشک ہوگئے حکومت کی جانب سے زیرِ زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے اور متبادل ذرائع فراہم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ پالیسی موجود نہیں پانی کی قلت سے نہ صرف زراعت بلکہ مویشی پال حضرات اور دیہی آبادی بھی شدید متاثر ہورہی ہے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خضدار کے کئی دیہات مکمل طور پر خالی ہو جائیں گےزمینداروں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ خضدار کے لیے ہنگامی بنیادوں پر واٹر کنزرویشن ڈیمز اور متبادل آبپاشی منصوبے شروع کیے جائیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ابھی زمینداروں کی معاشی تباہی کو نہ روکا گیا تو پورے ضلع کی معیشت اور زراعت کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں