طالب علم شفیح اللہ کی باحفاظت بازیابی کیلئے ٹوئٹر کمپین چلائی جائے گی، بلوچ اسٹوڈنٹس سوشل میڈیا فارم
بلوچ اسٹوڈنٹس سوشل میڈیا فارم نے جاری کردہ اپنے ایک علامیے میں نوشکی کے رہائشی اور جھالاوان لا کالج خضدار کے طالب علم شفیح اللہ کی جبری گمشدگی پرشدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے خلاف ٹوئٹر پر کمپین چلانے کا اعلان کر دیا، انہوں نے کہا کہ شفیح اللہ کو مستونگ کانک کے مقام پر سیکورٹی فورسز نے 18 اگست کو مستونگ سے کوئٹہ آتے ہوئے لاپتہ کیا گیا تھا جو اتنے دن گزرنے کے باوجود تاحال لاپتہ ہے۔ بی ایس ایم ایف نے اعلامیے میں کہا کہ شفیح اللہ جیسے نوجوانوں کی ماورائے عدالت گرفتاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جنہیں تعلیمی اداروں میں رہ کر اپنا مستقبل بنانا تھا انہیں پس زندان کرکے ان سے جینے اور مستقبل بنانے کا حق چھین لیا گیا ہے اگر طالب علموں کی جبری گمشدگی کا سلسلہ اس طرح چلتا رہا تو یہ مستقبل میں خطرناک صورتحال اختیار کر لے گی اور طالب علموں کیلئے تعلیمی اداروں کی طرف آنا مشکل ہو جائے گا۔ نوجوانوں کی گمشدگی طالب علموں کو تعلیم سے دوررکھنے کی ایک کوشش ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
علامیہ میں بلوچستان بھر کے طالب علموں سے اپیل کی گئی ہے کہ بلوچستان میں مختلف تعلیمی اداروں سے وابستہ طالب علوں کی جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھائیں ورنہ ایک ایک کرکے سب اس کا شکار ہوتے جائیں گے۔ جبکہ بلوچستان حکومت سمیت تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں طالب علوں کا تسلسل سے جاری جبری گمشدگی کی روک تھام کیلئے اقدامات اٹھائیں۔ بلوچستان کے طالب علم صوبے کے مستقبل کے معمار ہیں ان کا اس طرح جبری طور پر لاپتہ ہونا ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ بلوچستان کے طالب علوں کے ساتھ اس طرح کا ناروا سلوک اور انہیں مسلسل جبری گمشدگی کا نشانہ بنانا ایک المیہ ہے۔
علامیے کے آخر میں بی ایس ایم ایف نے شفیح اللہ کی جبری گمشدگی کے خلاف میڈیامیں ٹوئٹر کمپین چلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کل شام 6 بجے سے رات 11 بجے تک سوشل میڈیا پر ایک کمپین چلایا جا ئے گا جس میں تمام افراد سے شرکت کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔


