حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

تحریر: راحت ملک
1970ء کے عام انتخابات کے بعد بہت سے المیے سامنے آے۔ صوبہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو مکمل برتری ملی تھی جبکہ پنجاب اور سندھ کے صوبوں میں پیپلزپارٹی نمایاں رہی۔آئین ساز اسمبلی کے انتخابات کے لئے جاری کردہ لیگ فریم ورک پابند کرتا تھا کہ اسمبلی اپنے پہلے اجلاس کے بعد 90روز میں آئین مرتب کرے ناکامی کی صورت میں منتخب اسمبلی تحلیل سمجھی جائے گی اس صورت میں جنرل یحییٰ خان (صدر مملکت)مجاز ہونگے کہ وہ ملک کو اپنا مرتب کردہ شخصی آئین دیں اسے نافذ کریں۔ملک کے دونوں حصوں میں جتنا جغرافیائی فاصلہ تھا اس سے دو چند سیاسی نظریات اور ثقافت میں دوری تھی،عوامی لیگ نے جن چھ نکات کی بنیاد پر آئین ساز اسمبلی کے انتخابات میں واضح برتری حاصل کی تھی ملکی آئین کے متعلق غیر مبہم تصور رکھتی تھی اور عوامی تائید کے بعد اس کے منشور(چھ نکات) کی سیاسی جمہوری واصولی ساکھ غیر معمولی درجہ پاچکی تھی دوسری طرف باقی صوبوں میں انتخابات جیتنے والو ں نے عمومی سیاسی سلوگن پر ووٹ حاصل کئے تھے نیپ کا موقف عوامی لیگ کے نقطہ نظر سے قرابت رکھتا تھا مگر واضح پن نہیں۔دیگر پارٹیوں کے خیالات میں آئین کی ایک شبہیہ تو جھلکتی تھی مگر کسی جماعت نے چھ نکات کی طرح اپنی آئینی اسکیم پر انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔بعد از انتخابات آئینی خدوخال پر عوامی لیگ اور پیپلزپارٹی کی ترجیحات میں بہت اختلاف تھا۔امکان موجود تھا کہ کے پی کے (تب صوبہ سرحد)اور بلوچستان سے انتخابات جیتنے والی نیپ اور جے یو آئی عوامی لیگ کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر ایسا وفاقی آئینی ڈھانچہ مرتب کرنے پر متفق ہوجاتیں جس پر بنگالی عوام بھی مطمئن ہوجاتے اور ملک کو آئین بھی مل جاتا۔لیکن شاید یہ بات طاقت کو گوارا نہ تھی۔ایل ایف او کی محدود مدت کی شرط کے پس منظر میں بھٹو شہید اسمبلی اجلاس شروع ہونے سے قبل تمام جماعتون کے درمیان آئینی ڈھانچہ کے بنیادی اصولی نکات پر اتفاق رائے چاہتے تھے چنانچہ وہ فوری طور اجلاس بلانیکے حق میں نہیں تھے۔ڈھاکہ میں شیخ مجیب الرحمن سے مذاکرات کے بعد کراچی پہنچنے پر انہوں نے بیان دیا کہ "اگر مشرقی پاکستان کی نمائندگی عوامی لیگ کے پاس ہے تو ادھر (مغربی پاکستان میں) پیپلزپارٹی اکثریت رکھتی ہے "۔ یاد رہے کہ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد مغربی پاکستان نام کا کوئی انتظامی یونٹ یا انتخابی حلقہ موجود نہیں تھا مگر جناب بھٹو نے پیپلزپارٹی کو مغربی پاکستان کی نمائندہ قرار دیا جو مکمل سچ نہیں تھا بھٹو شہید کے اس بیان کو شائع کرتے ہوئے نوائے وقت نے نمایاں سرخی جمائی۔”اْدھر تم اِدھر ہم“سقوط ڈھاکہ کے بعد اسی اخباری سرخی کی بنیاد پر پیپلزپارٹی کے مخالف دائیں بازو والے اسے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا مجرم گرانتے رہے۔بات طویل ہوگئی کہنا یہ چاہتا ہوں کہ ذرائع ابلاغ کسی جماعت یا شخصیت کے متعلق جیسا تاثر قائم کردیتے ہیں اسے زائل کرنے میں دہائیاں گزرجاتی ہیں لیکن قائم کیا گیا تاثر بر قرار رہتا ہے ایسا ہی کچھ بلوچستان کی سیاست اور پہلی منتخب حکومت بارے جناب بھٹو شہید کے دور میں ہوا تھا اور آج تک اس منفی اور غیر حقیقی تاثر کی پرچھائیاں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔ نجی محافل میں یا احباب کی مجلس میں جن کا ذکر ہوتا رہتا ہے۔
2ستمبر 2021 کا دن بلوچستان کی قوم دوست سیاست کے لئے گہرے صدمے کا دن تھا۔ممتاز بلوچ قوم پرست سیاسی رہنماء قبائلی سردار اور بلوچ سیاست کے ایک طاقتور محور جناب سردارعطاء اللہ مینگل 92سال کی عمر میں طویل علالت کے بعد اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مردتھا
بزرگ سیاستدان سردار عطاء اللہ مینگل کو سیاست کی خار زار وادی میں بابائے بلوچستان لے کر آئے تھے اپنے سیاسی سفر کے آغاز سے لے کر زندگی کے آخری لمحے تک محترم سردار صاحب پھر کبھی سیاسی جدوجہد اور اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ سیاسی استقامت کا یہ پہلو ان کی پراثر شخصیت کے گرد نور کے ہالے کی طرح ہمیشہ روشن رہا۔بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو سے سیاسی اختلافات بھی رہے مگر دونوں اطراف سے سیاسی موقف پراستقامت میں لرزش دیکھنے میں کبھی نہیں آئی۔آج اس بزرگ و محترم یستی کو مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر موت سے کسے مفر ہے۔انسان فانی ہے اور زندگی موت کے تعاقب کا سفر ہے۔
جناب سردار عطاء اللہ مینگل کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ صوبہ بلوچستان کے پہلے منتخب وزیراعلیٰ بنے۔1972ء میں ان کی سربراہی میں بلوچستان میں پہلی جمہوری حکومت قائم ہوئی جسے جناب بھٹو نے نو ماہ کے مختصر عرصے میں صدارتی فرمان کے زریعے ختم کرکے گورنر راج نافذ کر دیا تھا۔
قارئین کرام۔1970ء کے عام انتخابات سے قبل جنرل یحییٰ خان نے سندھ بلوچستان اور کے پی کے۔ کے سیاسی دباؤ جس میں عوامی لیگ کی آواز بھی شامل تھی کی بنا ہر مغربی پاکستانی نامی ون یونٹ ختم کر کے اس انتظامی منطقے میں موجود سابقہ صوبوں کو بحال کیا تھا بلوچستان موجودہ جغرافیائی ڈھانچے میں 1969ء میں پہلی بار ایک انتطامی یونٹ یعنی صوبہ بنا،قبل ازیں مغربی پاکستان انتظامی یونٹ جس کا مرکز اختیار لاہور میں تھا۔موجودہ چاروں وفاقی اکائیوں کا بلا شرکت غیرے حاکم تھا۔چنانچہ اس عرصہ میں مختلف سرکاری محکموں میں ہونے والی تقرریوں بھرتیوں میں پنجاب کے افراد کو ہی زیادہ تر نوکریاں ملیں دوسرے درجے پر اردو بولنے والے مہاجرین کو استفادہ حاصل ہوا اس کی دوسری وجہ مہاجرین اور پنجابیوں کو حاصل تعلیمی بالادستی تھی۔ون یونٹ نے سندھ(دیہی)بلوچستان اور کے پی کے عوام اور صوبوں کو پنجاب کے حاشیے میں نیم نو آبادیات میں بدل دیا تھا۔جس سے عوامی نفرت،غصہ اور کشیدگی نے جنم لیا تھا۔1970ء کے انتخابات اور ون یونٹ کے خاتمے کے پس منظر میں طے تھا کہ صوبوں کی بحالی کے نتیجے میں تمام عہدوں پر تعینات افراد اپنے اپنے آبائی صوبوں میں منتقل میں ہوجائیں گے۔
نیپ کی حکومت نے اساتذہ،پولیس اور سیکرٹریٹ میں تعینات غیر بلوچستانی افراد کی فوری طور پر آبائی صوبے میں منتقلی کو بلوچستان میں متبادل تقرریوں اور مہارت رکھنے والے افراد کی شمولیت تک موخر رکھنے کے لئے مرکز سے رابطہ کیا۔نیپ اس اصول پر مرحلہ وار عمل چاہتی تھی۔کیونکہ جلد بازی میں افسران اور اہلکاروں کے انخلاء سے صوبے میں بد انتظامی اور خلاء پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔مرکزی حکومت نیپ حکومت کے لیے اس ساختی بحران کی سنگینی کو سمجھتی تھی اور وہ نیپ حکومت کو ہر صورت میں ناکام بنانے پر تلی ہوئی تھی لہذا اس نے پنجاب حکومت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اس وقت پنجاب کے حکمران جناب مصطفی کھر نے نیپ حکومت کے مطالبے یا خواہش کو مسترد کرتے ہوئے مختصر مدت میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے ملازمین کی واپسی کا اعلان کیا جناب کھر نے فرمایا کہ جو پنجابی اہلکار اگلے تین ماہ میں پنجاب حکومت کو رپورٹ نہیں کرے گا اسے وقت گزرنے کے بعد صوبے میں ملازمت نہیں دی جاے گ۔جبکہ یہ بھی واضح تھا پنجاب سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کو بہر صورت بلوچستان سے جانا تھا۔ مذکورہ سرکاری ملازمین کے لئے روزگار کے عدم تحفظ کا شدید بحران پیدا ہوگیا جبکہ نیپ حکومت ہر سطح پر ان ملازمین کو تحفظ روزگار کا یقین دلاتی رہی مگر اس کے مثبت اثرات سامنے نہ آسکے اس کی وجہ جو میری سوجھ بوجھ میں آئی وہ مندرجہ ذیل تھیں۔
1) نیپ سے وابستہ بی ایس او اور پی ایس ایف کے جوشیلے نوجوان جلد از جلد روز گار چاہتے تھے ون یونٹ کے خلاف چلی سیاسی تحریک نے پنجاب کے خلاف قدرتی غصہ پیدا کیا تھا جو نفرت میں ڈھل چکا تھا حکومت ملنے کے بعد دونوں طلبہ تنظیموں کے زیادہ جوشیلے کارکن اپنے جذباتی پن کے اظہار میں غیر محتاط رویے کا اظہار کرنے لگے تو پنجابی بولنے والے ملازمین سمیت یہاں تجارت کرنے والے افراد بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے،حکومت یعنی گورنر بلوچستان بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور وزیراعلیٰ محترم سردار عطاء اللہ مینگل عدم تحفظ کے شکار مذکورہ ملازمین کو یقین دلانے کی جتنی کوشش کرتے وہ رائیگاں جاتی کیونکہ صوبے کے اپنے ذرائع ابلاغ نہیں تھے سب سے متاثر کن ذریعہ ٍابلاغ ریڈیو تھا جو مرکزی حکومت کے کنٹرول میں تھا۔ریڈیو کوئٹہ حکومت بلوچستان کے متعدل موقف کو پیش کرنے سے بوجوہ گریزاں رہا۔مشرق اخبار مرکزی حکومت کا ملکیتی تھا جبکہ دیگر اخبارات جنگ،روزنامہ زمانہ بھی مرکزی حکومت کے رسوخ میں تھے۔چنانچہ ذرائع ابلاغ کے عدم تعاون اور مرکزی حکومت کے پروپیگنڈ ا کے زیر اثر جناب سردار عطاء اللہ مینگل کو پنجاب یا پنجابیوں کا مخالف بنا کر پیش کیا گیا۔ مجھے ان کی شخصیت کو سمجھنے کے ذاتی مواقع ملے ان کی بنا پر میں صدق دل سے مانتا ہوں کہ سردار صاحب بلوچ قوم پرست تو تھے لیکن وہ تمام پاکستانی اقوام کے یکساں سیاسی حقوق کے لئے مکمل طور پرعزم تھے۔ دریں حالات مرکز کے اشارے پر نیپ حکومت کو بدنام کیا گیا اور جو تاثر قائم کیا گیا تھا، بدقسمتی سے پچاس سال بیت جانے کے بعد بھی اس کے کچھ نہ کچھ اثرات آج بھی سامنے آجاتے ہیں۔
یہ میڈیا کے اثرورسوخ کا حوالا ہے تو اسکے غلط استعمال کی وضاحت بھی۔ افسوسناک بات یہ کہ ذرائع ابلاغ میں تا حال بلوچستان کی قوم دوست وطن دوست اور سیاسی زعماء کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔تازہ مثال دیکھ لیں جناب سردار عطاء اللہ مینگل کی رحلت اور تدفین پر برقی میڈیا میں چند لمحائی خبریں نظر آئی ہیں جبکہ کشمیری رہنماء بزرگ ومکرم جناب علی گیلانی کی وفات اور تدفین کے متعلق چلنے والی خبریں مقدار اور کیفیت کے اعتبار سے زیادہ ہیں ان خبروں کو یکھتے ہوئے مجھے نواب محمد اکبر بگٹی کی تدفین کے واقعات یاد آتے رہے مماثلت اپنی جگہ مگر سوالات بھی ابھرتے ہیں۔ کاش پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی جمہوری ریاست بنانے کی مخالفت ترک ہوجایے تو یقیناً ہم ماضی کی تلخیوں سے نکل کر ایک روشن پر امید مستقبل کی تعمیر کرلینگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں