سی ٹی ڈی کی کارروائی میں لوگوں کو لاپتہ کر کے مبینہ جعلی مقابلوں میں مارا گیا ہے، وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز
کوئٹہ:وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے کہاہے کہ سی ٹی ڈی کے 5واقعات میں 27افراد میں سے 14کی شناخت ہوئی ہے،پہلے سے لاپتہ افراد کو مبینہ طورپر جعلی مقابلوں میں ماراگیاہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے حوالے سے حقوق انسانی کی تنظیموں، وکلا اور صحافیوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائے جو تحقیقات کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ اب تک سی ٹی ڈی نے پانچ مختلف واقعات میں کالعدم تنظیموں کے 27 افراد کو مارنے کا دعوی کیا جن میں سے 14 افراد کی شناخت ہوئی ہے۔انھوں نے بتایا کہ ان افراد کے رشتہ داروں نے تنظیم کو شکایت کی ہے کہ یہ 14 افراد پہلے سے لاپتہ تھے اور ان کو مبینہ طور پر جعلی مقابلوں میں مارا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ ‘ملکی قوانین کی روشنی میں اگر ایک مسئلے میں دو فریق بن جاتے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کے حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دے اور دونوں فریقین کے بیانات کو ریکارڈ کروائے۔نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے حوالے سے حقوق انسانی کی تنظیموں، وکلا اور صحافیوں پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائے جو تحقیقات کر کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے۔


