ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے،عبدالکریم نوشیروانی
کوئٹہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سینئر نائب صدر اور سابق صوبائی وزیر میرعبدالکریم نوشیروانی نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے وفاقی حکومت روزانہ کی بنیاد پر ٹیکس لگاکر مہنگائی میں اضافہ کررہی ہے غریب لوگ ایسی صورتحال میں خود کشیوں پر مجبور ہوگئے ہیں بلوچستان میں سرحدوں کی بندش سے تجارتی و کاروباری طبقہ نان شبینہ کا محتاج ہوکر رہ گیا ہے بجلی اور سولر کی قوت نہ رکھنے سے زمیندار بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ملک میں مہنگائی اور ٹیکسوں پر ٹیکس لاگو کرنے سے جو ابتر صورتحال پیدا ہوئی ہے اور حکومت کی تین سالہ کارکردگی کا ازخود نوٹس لے اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کرکے عوام کو ریلیف دے ملک کے غریب عوام ایسی جمہوریت سے تنگ آگئے ہیں جس میں انہیں ریلیف نہیں مل رہا وہ جمہوریت سے زیادہ ملک میں مارشل لاء کے نفاذ پر خوش ہیں کہ کم از کم مارشل لاء میں ایک قانون تو ہوگا جس کے تحت عوام پرظلم نہیں ہوگا غریب اورامیر کا فرق بھی باقی نہیں رہے گا۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر خاران کے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کہی سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیراونی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث آٹا،چینی،دال سمیت اشیائے خوردونوش،بجلی،گیس اوردیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں اضافے نے غریب عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور یہ تمام اشیائے خوردونوش اور ضروریات زندگی عوام کی دسترس سے باہر ہوگئی ہے تعلیم کے حوالے سے دیکھا جائے تو غریب عوام بچوں کو تعلیم دینے سے قاصر ہیں علاج کو دیکھیں تو ادویات کی قیمتیں دس گنا بڑھ گئی ہیں تعلیم،علاج و معالجہ بھی غریب عوام کیلئے نہیں رہا ایسی حالت میں غریب عوام خود کشی نہ کریں تو پھرکیا کریں،بجلی اور سولرکی قیمت ادا کرنے کی قوت نہ رکھنے سے زمینداربھی نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندرون بلوچستان میں زمینداری کا شعبہ بھی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں چھوٹی موٹی تجارت اورکاروبار سے غریب عوام اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے سرحدوں کی بندوش کے بعد یہاں پر تجارت اور کاروبار کرنے والے طبقہ بھی ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے انہوں نے کہا کہ میری وفاقی حکومت سے یہ گزارش ہے کہ اگر اسے ہماری ان باتوں کا یقین نہیں تو وہ اندرون بلوچستان ایک ٹیم بھیجے یا پھر اداروں کے ذریعے سروے کروائے کہ سرحدی علاقوں میں لوگ کیسے گزارا کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ غریب لوگ جمہوریت سے خوش نہیں دکھائی دے رہے ہیں وہ ملک میں مارشل لاء کے نفاذ میں خوش ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کم از کم مارشل لاء میں غریب اور امیر کے لئے قانون ایک ہوگا اور غریب پر ظلم نہیں ہوگا جمہوریت تو امیر لوگوں کیلئے ہے جوکہ منی لانڈرنگ کرکے بیرون ملک عیاشی کرتے ہیں


