پی ایم ڈی اے کیخلاف صحافیوں کا پارلمنٹ ہاؤ س پر احتجاج آج بھی دھرنے کا اعلان

اسلام آباد(انتخاب نیوز+مانیٹرنگ ڈیسک+ایجنسیز)میڈیا پر قدغن اور پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف ملک بھر کے صحافیوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر دھرنا دیدیا،دھرنے میں شرکت کے لیے صحافیوں اور اپوزیشن رہنماؤں کی بڑی تعداد پہنچی، دھرنا (آج) پیر کو ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس کے دوران بھی جاری رہے گا۔تفصیلات کے مطابق پی ایف یو جے نے تمام صحافی برادری، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں، مزدور یونینوں، ورکرز ایسوسی ایشنوں، طلبہ گروپوں، ڈیجیٹل حقوق کے علم برداروں اور عام شہریوں سے دھرنے میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور نے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی بل صحافیوں کے حقوق اور میڈیا کی آزادی کے خلاف قرار دیدیا۔پی ایف یو جے دستور نے قانون مسلط کرنے پر ہر سطح پر مزاحمت کرنے اور میڈیا کی آزادی سلب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بائیکاٹ اور صحافیوں کیدھرنے میں شرکت کا اعلان کرچکی ہے۔پی ایف یوجے کے سیکریٹری جنرل ناصر زیدی نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہزاروں کارکن بے روزگارہوچکے ہیں،کئی اینکرز کو ٹی وی پروگراموں سے آؤٹ کردیا گیا،آج ہم اپنی تحریک کا آغاز کررہے ہیں یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک میڈیا آزاد نہیں ہوجاتا۔انہوں نے کہا کہ پی ایم ڈی اے کالا قانون ہے حکومت کو واپس لینا پڑے گا۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صحافت پر قدغن لگا کر پاکستان کے عوام کا حق سلب کررہی ہے۔پیپلزپارٹی کی ترجمان شازیہ مری نے کہا کہ پاکستان میں جمہوری سوچ رکھنے والے کارکنوں نے ہار نہیں مانی۔انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے اس پی ایم ڈی اے کو مسترد کیا ہے،میڈیا کی آواز کو دبانے نہیں دیں گے۔مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ایم ڈی اے قانون صحافیوں کو ختم کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک پر آمرانہ ذہنیت مسلط ہے یہ وہی وزیراعظم ہے جسے ملک پر مسلط کیا گیا جس نے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی تھی تین سال میں پارلیمان کی زبان بندی،صحافیوں کو گولیاں ماری گئیں اپوزیشن اور اس کے اتحادیوں نے مسترد کیا ہے اس کالے قانون کو پاس نہیں ہونے دیں گے۔مریم اورنگز یب نے کہاکہ اس تحریک میں آپ ہے شامی بشانہ کھڑے ہوں گے۔ریلی میں جے یوآئی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اخترعلی،سینئر صحافی حامد میر،افضل بٹ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔صحافتی تنظیموں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا،سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے صحافیوں کے احتجاج اور دھرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ سلیم مانڈی والا نے کہاکہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں کے پرامن احتجاجی دھرنے کی حمایت کرتے ہیں، حکومت کو صحافیوں کے تحفظات کو سن کر ان تمام تحفظات کو دور کرنا چاہیے،صحافیوں کے تحفظات سننے کی بجائے میڈیا کی آواز دبانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جن صحافیوں پر غیر اعلانیہ پابندی ہے وہ فوری ختم کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں