طلباء و طالبات کے احتجاج کے بعد بھی پی ایم سی کی جانب سے اقدامات نہ اٹھانا قابل مذمت ہے، بلوچستان بار کونسل

کوئٹہ:بلوچستان بار کونسل کے وائس چیرمین قاسم علی گاجزئی چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی ایوب ترین ممبران بار کونسل راحب خان بلیدی ایڈووکیٹ اور امان اللہ کاکڑ نے اپنے ایک بیان میں پی ایم سی کے ٹیسٹ میں بے قاعدگیوں اور طلباء و طالبات کے احتجاج اور تاحال پی ایم سی کی جانب سے اقدامات نہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پی ایم سی کا حالیہ آن لائن ٹیسٹ کے خلاف صوبہ بھر میں بلکہ ملک بھر میں ان کے خلاف احتجاج کئے گئے ہیں بیان میں کہا کہ بلوچستان پہلے سے تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے بلوچستان کے 70 فیصد آبادی آج بھی بجلی اور انٹرنیٹ کے سہولیات سے محروم ہے جس کے خلاف ملک بھر کے طلباء و طالبات نے آواز بلند کی ہے انہوں نے کہا کہ اس بے قاعدگیوں کے خلاف تمام پارلیمنٹ میں آواز بلند کیا گیا ہے لیکن پی ایم سی کی ہٹ دھرمی سے بلوچستان کے والدین طلباء پریشان حال ہیں بیان میں مطالبہ کیا کہ پی ایم سی فوری طور پر اپنے آن لائن ٹیسٹ پر نظر ثانی کرے اور طلباء کے مطالبات پر غور کرے بلوچستان بار کونسل نے 23 ستمبر کو پی ایم سی کے خلاف ملک گیر احتجاج کے حمایت کا اعلان کردیا اور بیان میں کہا کہ بلوچستان بار کونسل اس احتجاج میں طلباء کے ساتھ ہیں
ئ

اپنا تبصرہ بھیجیں