عالمی بردادری پاکستان کی طرح افغانستان میں اجتماعیت کی متمنی ہے، شاہ محمود قریشی
اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ عالمی برادری افغانستان میں، پاکستان کی طرح اجتماعیت کی حامل حکومت کی متمنی ہے، افغانستان میں جنم لیتے انسانی و معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری افغانوں کی معاونت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے،اقتصادی بحران سے دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملے گا، ہمیں افغانستان کے حوالے سے اسپاییلرز کی موجودگی اور عزائم سے باخبر رہنا ہو گا، ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے بہت سی پر کشش مراعات دے رہے ہیں، کاروبار میں آسائشیں کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، ڈینش کمپنیاں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے زریعے ان مراعات سے استفادہ کر سکتی ہیں۔جمعہ کو یہاں ڈنمارک کے وزیر خارجہ یپے کوفووفد کے ہمراہ وزارت خارجہ پہنچے تو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے خیر مقدم کیا،ڈینش وزیر خارجہ نے وزارتِ خارجہ کے سبزہ زار میں یادگاری پودا لگایا۔ بعد ازاں وزارتِ خارجہ میں پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ ڈینش وفد کی قیادت ڈنمارک کے وزیرخارجہ یپے کوفو نے کی،مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان کی ابھرتی ہوئی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ نے معزز مہمان کو وزارت خارجہ آمد پر خوش آمدید کہا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان، ڈنمارک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، گذشتہ کچھ عرصے میں پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان دو طرفہ تعلقات وسعت پذیر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستانیوں کی ایک کثیر تعداد ڈنمارک میں مقیم ہے جو دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کے استحکام کا باعث ہے، جی ایس پی پلس اسٹیس کے حوالے سے ہم پاکستان کی معاونت پر ہم ڈنمارک کے شکر گزار ہیں۔زیر خارجہ نے کہاکہ ہم بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے بہت سی پر کشش مراعات دے رہے ہیں، کاروبار میں آسائشیں کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے، ڈینش کمپنیاں، پاکستان میں سرمایہ کاری کے زریعے ان مراعات سے استفادہ کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور ڈنمارک کے درمیان قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دو طرفہ تعاون کا فروغ قابل ستائش ہے، دونوں ممالک کی پارلیمان میں پاکستان اور ڈنمارک پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کی موجودگی، پارلیمانی روابط کے فروغ کا باعث ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارا قبل ازیں ٹیلیفونک رابطہ رہا، جرمنی، نیدرلینڈز، برطانیہ،اٹلی، اور اسپین کے وزرائے خارجہ پاکستان تشریف لائے اور ان کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے مابین افغانستان کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو ہوئی، ہم نے ایک ہزار سے زائد ڈینش شہریوں کو کابل سے محفوظ انخلا میں معاونت فراہم کی، نیویارک میں میری یورپی یونین کے خارجہ تعلقات اور سلامتی کے سربراہ جوزف بوریل سے بھی افغانستان کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے چھہترویں اجلاس کے موقع پر میری سویڈن سلوانیہ، آسٹریا، فن لینڈ، ناروے سمیت بہت سے یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات ہوئی اور مجھے ان سے گفتگو کا موقع ملا۔انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ہمارے نقطہ نظر میں ہم آہنگی دکھائی دی، افغانستان میں حالیہ تبدیلی کے دوران خون خرابے اور خانہ جنگی کا نہ ہونا مثبت پہلو ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری افغانستان میں، پاکستان کی طرح اجتماعیت کی حامل حکومت کی متمنی ہے، انہوں نے کہاکہ مجھے افغانستان کے قریبی ہمسایہ ممالک کا دورہ کرنے اور ان سے اظہار خیال کا موقع ملا، ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں جنم لیتے انسانی و معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری افغانوں کی معاونت کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے،اقتصادی بحران سے دہشت گرد گروہوں کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع ملے گا، ہمیں افغانستان کے حوالے سے اسپاییلرز کی موجودگی اور عزائم سے باخبر رہنا ہو گا۔وزیر خارجہ نے پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال میں بہتری کے تناظر میں، ڈینش ہم منصب کے ساتھ ٹریول ایڈوائزی پر نظر ثانی کا مطالبہ کیاڈینش وزیر خارجہ نے ڈینش شہریوں کے کابل سے محفوظ انخلا میں معاونت پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔


