موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف و ورلڈ بینک کی ہدایت پر مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے،مولانا ہاشمی

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ موجودہ ناکام نااہل حکومت کی سب سے بڑی ناکامی بدترین مہنگائی،بھاری سودی قرضوں کا حصول،بدعنوانی میں اضافہ ہے۔ حکمرانوں نے اسلام دشمن آئی ایم ایف ورلڈ بنک کی ہدایت پر مہنگائی کا طوفان بر پا کررکھا ہے۔پٹرولیم واشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں ہردس پندرہ روز میں اضافہ کیاجاتا ہے۔ ڈالر،پٹرول،چینی،آٹا ملکی تاریخ کے بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ تبدیلی سرکار عوام کی خوشیاں کھا گئی ہے۔عمران ڈالر،چینی،پٹرول کی قیمت تین سو روپے کرنے کاارادہ رکھتاہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول کی نئی قیمت 127، ڈیزل 122جبکہ ایل پی جی کی قیمت 29روپے اضافے کے بعد 203روپے فی کلو،آٹابیس کلو پندرہ سو،چینی ایک سوبیس روپے کلو ہو گئی ہے۔ بجلی کی قیمت میں بھی ایک مرتبہ پھر 1.95روپے فی یونٹ اضافے کی خبریں مل رہی ہیں عمران خان نا اہل اور انکی ساری ٹیم نا اہلوں کا ٹولہ ہے۔ ماہرین معیشت کی جانب سے ڈالر کی قیمت 2022تک 180روپے سے تجاوز کرنے کے خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف جب سے بر سر اقتدا ر آئی ہے۔ مہنگائی کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ کوئی ایک وعدہ بھی ایسا نہیں جو حکمرانوں نے ان تین برسوں میں پورا کیا ہو۔ عوام بد حال ہیں، ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا وعدہ کرنے والے عوام کے لیے وبال جان بن چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ افراط زر پاکستان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر وں کا وعدہ کرنے والوں کے سارے وعدے جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ 22کروڑ عوام ان ظالم حکمرانوں کی اصلیت جان چکے ہیں۔ آئندہ انتخابات میں ان کا بوریا بستر گول ہوجائے گا۔ حکمران مسلسل عاقبت نااندیش فیصلوں کے ذریعے قوم کے زخموں پر نمک پاشی کررہے ہیں۔ عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف میسر نہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، لاقانونیت، میرٹ کی بے حرمتی، کرپشن، معاشی بدحالی اور اس پر مستزاد حکمرانوں کی بے حسی کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ یہ بڑے مسائل ہیں، جن کو اگر فوری حل نہ کیا گیا تو اسلامیان پاکستان کا معاشی ڈھانچہ متاثر اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں