پی پی ایچ ائی بلوچستان میں بدعنوانی اور کرپشن عروج پر ہے، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان

کوئٹہ:ترجمان ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹر کلیم اللہ کاکڑ نے اپنے ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ 2005 سے وجود میں انے والی پی پی ایچ ائی بلوچستان تاریخ کی ناکام ترین اور بدعنوانی سے بھرپور ادارہ ہے، 660 سے زائد بی ایچ یو کے انتظامات چلانے والی پی پی ایچ ائی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے؟ سالانہ اربوں روپے کا بجٹ بغیر کسی اڈٹ کا استعمال ہورہا ہے، کمپنی میں بدعنوانی اور کرپشن عروج پر ہے مگر احتساب کرنے والا کوئی نہیں،ترجمان نے بتایا کہ پی پی ایچ ائی بلوچستان کی کمپنی ٹوپی ڈرامہ کے سوا کچھ نہیں، فیک او پی ڈی اندارج کرکے کمپنی کا وجود برقرار رکھا گیا ہے اور محکمہ صحت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے، کمپنی کے اخراجات کا کوئی حساب کتاب ہے نہ ہی کوئی پوچھنے والا، 660 بی ایچ یو میں نہ کوئی ڈاکٹر تعینات ہے اور نہ ہی مریضوں کیلئے کوئی علاج معالجہ کا بندوبست، کمپنی صرف اور صرف چند لوگوں کے کرپشن کا مرکز ہے، محکمہ صحت کا پرائمری سیکنڈری اور سپیشلائزڈ ہیلتھ کیر میں تقسیم ہونے کے بعد پی پی ایچ ائی کمپنی کا وجود تاحال برقرار رکھنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کمپنی کو صرف اور صرف پیسہ بنانے کیلئے قائم کیا گیا ہے، کمپنی کو نان ٹیکنیکل لوگوں سے چلا کر تباہ کردیا ہے، کمپنی کو نان ٹیکنیکل لوگوں سے چلانا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کمپنی لوگوں کی بلائی کیلئے نہیں بلکہ چند بدعنوان آفیسروں کی کمائی کا مرکز ہے،ترجمان نے بتایا کہ MERC پروجیکٹ بھی اسی کمپنی کی بدعنوانی کا ایک مرکز ہے جہاں پروکیورمینٹ رولز کے برعکس گاڑیوں، ادوایات اور دیگر ضروریات کی خریداری کیلئے من پسند لوگوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے، سالانہ استعمال ہونے والے بجٹ کا کوئی حساب کتاب نہیں اور نہ ہی کوئی پوچھنے والا ہے، ترجمان نے بتایا کہ پی پی ایچ ائی بلوچستان کو محکمہ صحت کے دائرہء کار میں اندر لاتے ہوئے اس کو بہتر بنانے اور عوام کو بہتر صحت مہیا کرنے کیلئے ٹیکنیکل لوگوں کے حوالے کیا جائے، DSM کی پوسٹ پر ڈاکٹرز کی تعیناتی یقینی بنائی جائے، محکمے میں ہونے والی بدعنوانی اور کرپشن کا احتساب کیا جائے، بدعنوان آفیسر کا احتساب کیا جائے، اور ہم حکومت وقت کر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کا مسائل کے حل اور مطالبات کے حق میں او پی ڈی اور آپریشن تھیٹر میں الیکٹیو سروس کا بائیکاٹ جاری رہیگا

اپنا تبصرہ بھیجیں