ڈیرہ اللہ یار میں پانی کا شدید بحران، شہری اتحاد کا حکام سے فوری اقدامات کا مطالبہ

جعفرآباد( بیورو چیف)شہری اتحاد ڈیرہ اللہ یار کے صدر طاہر عمرانی نے شہر میں جاری شدید آبی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاکھوں نفوس پر مشتمل ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ڈیرہ اللہ یار کے شہری پینے کے پانی جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ شدید گرمی میں عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ جس علاقے میں پانی دستیاب نہ ہو وہاں انسانی زندگی کا تصور مشکل ہو جاتا ہے، مگر ڈیرہ اللہ یار کے شہری طویل عرصے سے پانی کے بحران سے دوچار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (PHE) کی انتظامیہ صورتحال سے نمٹنے میں مو¿ثر کردار ادا نہیں کر رہی۔انہوں نے حکومت بلوچستان، وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری، سیکرٹری پی ایچ ای، کور کمانڈر بلوچستان، چیف جسٹس بلوچستان، کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کے بنیادی مسائل کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ڈیرہ اللہ یار میں پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اگر پانی کی قلت ہے تو حکومتی پالیسی کے تحت زرعی آبادی کو پانی کے استعمال میں کمی کے لیے اقدامات اور نوٹس جاری کیے جائیں تاکہ شہری آبادی کو پینے کے لیے پانی فراہم کیا جا سکے۔شہر میں پانی کی فراہمی کے لیے تین بڑے 24 انچ قطر کے پائپ موجود ہیں، تاہم مبینہ طور پر گزشتہ چار سال سے ان کی صفائی نہیں کی گئی، جس کے باعث پائپ مٹی سے بھرے ہوئے ہیں اور پانی کی فراہمی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔بعض واٹر سپلائی مراکز میں صفائی اور کلورینیشن کا مناسب انتظام موجود نہیں، جبکہ سیفٹی اور واٹر ٹینکس میں بھی مطلوبہ نظام کے فقدان کی شکایات ہیں۔ پانی کی فراہمی میں مبینہ غفلت اور انتظامی کوتاہیوں کی تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ پانی کے بحران کے خلاف شہری پہلے بھی متعدد احتجاج کر چکے ہیں اور پریس کانفرنسز بھی کی گئی ہیں، تاہم مسئلہ تاحال حل نہیں ہوا۔ ان کے بقول موجودہ صورتحال میں شہریوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس وقت منتخب رکن صوبائی اسمبلی سمیت تمام متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو پانی سمیت بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ شہریوں اور معصوم بچوں کو بنیادی ضرورت سے محروم رکھنے کی وجہ کیا ہے۔ شہر کی مختلف تاجر، اقلیتی، سول سوسائٹی، سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندوں میں بھی پانی کے بحران پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں جلد اجلاس منعقد کیا جائے گا، جس میں پانی کے بحران، متعلقہ انتظامیہ کے مبینہ رویے اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا جائزہ لے کر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو شہری اتحاد اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مو¿ثر احتجاجی اقدام اٹھانے کے ساتھ ساتھ عدالتِ عالیہ سے بھی رجوع کرنے پر غور کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں