بسیمہ میں مہنگائی نے عوام اور تاجروں کی مشکلات بڑھا دیں، پرائس کنٹرول کمیٹی فعال کرنے کا مطالبہ

بسیمہ (مانیٹرنگ ڈیسک) بسیمہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کردیا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث دکاندار بھی کاروباری مشکلات سے دوچار ہیں۔ آمدن میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے باوجود روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کے باعث غریب اور دیہاڑی دار طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔آٹا، دالیں، گھی، چینی، سبزیاں اور دیگر بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ مہنگائی کے باعث لوگ اپنی ضروریات محدود کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ بچوں کی تعلیم، علاج معالجہ، بجلی کے بل اور دیگر گھریلو اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔دوسری جانب بسیمہ کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث عوام کی قوت خرید میں نمایاں کمی آئی ہے اور کاروبار تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔دکانوں میں موجود اشیاءفروخت نہ ہونے کے باعث پڑے پڑے زائدالمیعاد ہورہی ہیں، جس سے انہیں مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ایک طرف کاروبار میں کمی آئی ہے تو دوسری جانب دکانوں کے کرایے، بجلی کے بل اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس سے چھوٹے تاجروں کے لیے کاروبار جاری رکھنا مشکل بنتا جارہا ہے۔ بسیمہ میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے تعین اور سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کے لیے قائم پرائس کنٹرول کمیٹی کا کردار مو¿ثر دکھائی نہیں دے رہا، جس کے باعث بعض دکانداروں کی جانب سے مبینہ طور پر من مانی قیمتیں وصول کرنے کی شکایات سامنے آرہی ہیں۔عوام اور تاجر برادری نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بسیمہ میں پرائس کنٹرول کمیٹی کو فوری طور پر فعال کیا جائے، بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی جائے اور سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی، گرانفروشی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مو¿ثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں، بصورت دیگر غریب طبقے کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروبار بھی مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں