امریکا کیساتھ تعلقات، سابق چیف آف ائیر سٹاف کا حکومت کو مشورہ
اسلام آباد:سابق چیف آف ائیر سٹاف کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھانا چاہئیے۔ جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق سابق چیف آف ائیر سٹاف ریٹائرڈ ائیر چیف مارشل سہیل امان نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو عملی طور پر آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔سٹریٹجک ویژن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام کتاب کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے باوجود پاکستان کے لیے ایک تعمیری جگہ موجود ہے جسے پاکستان کے فائدے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔سابق سی اے ایس نے پاکستانی رہنماں پر زور دیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو تیز کرنے کے لیے ملک کی اسٹرٹیجک اہمیت اور سفارتکاری کو بروئے کار لائیں۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کے مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان باہمی تعلقات پر چھائی ہوئی بداعتمادی کو دور کرنے کے لیے مثبت بات چیت میں مصروف ہیں۔ دو روز قبل امریکی انڈر سیکریٹری دفاع برائے پالیسی کولِن کاہل نے سینیٹ پینل کو بتایا تھا کہ پاکستان، افغان سرزمین کو نہ صرف اپنے بلکہ دیگر ممالک کے خلاف بھی دہشت گرد، بیرونی حملوں کے لیے محفوظ ٹھکانے کے طور نہیں دیکھنا چاہتا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ہمیں اپنی فضائی حدود تک رسائی جاری رکھی ہوئی ہے اور ہم یہ رسائی کھلی رکھنے کے لیے ان سے بات چیت کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائس آف امریکہ (وی او اے)ریڈیو کو دئے گئے انٹرویو میں مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے اس رائے سے اتفاق نہیں کیا کہ امریکہ اور پاکستان تصادم کے راستے پر ہیں اور یہاں سے ان کے تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔


