ملک میں بیروزگاری سلیکٹڈ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے، پی ڈی ایم

حرمزئی : پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں شامل سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک میں مسلط اذیت ناک مہنگائی اور بدترین بیروزگاری ملک پر مسلط سلیکٹڈ حکومتوں کی عوام دشمن پالیسیوں اور عوام دشمن اقدامات کا نتیجہ ہے اور ان سلیکٹڈ حکمرانوں کے پاس عوام کی ترقی وخوشحالی اور عوام کو ریلیف دینے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ تین سال تک حکومت میں برسراقتدار ہونے کے باوجود عوام کیلئے کوئی بھی فلاحی منصوبہ سامنے نہیں لائیں اور اب غریب عوام کو دووقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کی قوت خرید بھی ختم ہوچکی ہے۔ ان خیالات کا اظہارپشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری امین اللہ بشر، پارٹی رہنماء سید محمد فضل آغا، جمعیت علماء اسلام کے رہنماء ایم پی اے حاجی عزیزاللہ آغا،جمعیت کے ضلعی نائب امیر مفتی محمد نعمان، تحصیل امیر مولوی عبدالکریم اور مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر سعد اللہ ترین نے حرمزئی بازار میں احتجاجی مظاہر ے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس سے پہلے احتجاجی مظاہرہ ہوا اور ملک میں بدترین مہنگائی اور سلیکٹڈ حکمرانوں کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی۔ مقررین نے کہاکہ پی ڈی ایم کی احتجاجی تحریک غریب عوام کو بدترین مہنگائی اور بیروزگاری سے نجات دلانا ہے حکمرانوں نے پیٹرولیم مصنوعات، گیس، بجلی ادوئیات، خوردنی اشیاء سمیت ہر چیز کی قیمتوں میں تین سو گنااضافہ کرکے غریب عوام سے جینے کا حق تک چھین لیا اور اب زندگی کے کسی بھی شعبے میں عوام کو عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے بلکہ روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی، لاقانونیت، بدامنی، انارکی سمیت ہر شعبہ زندگی روبے زوال ہے اور حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے عوام کے خدمت کے ادارے اپنی صلاحیت اور اختیارات کھو چکے ہیں بلکہ سول مارشلاء نافذ ہے اور سلیکٹڈ حکمرانوں کی ناکامی ہر شعبہ زندگی میں نوشتہ دیوار ہے۔ مقررین نے کہا کہ ملکی بحرانوں سے نجات کا واحد راستہ ملک میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بغیر آزادانہ شفاف انتخابات کا فوری انعقاد اور اقتدار حقیقی سیاسی جماعتوں کے حوالے کرنے میں ہیں جو پی ڈی ایم کے پروگرام کی روشنی میں ملک کو استحکام اور ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔ مقررین نے کہا کہ جام کمال کے دور حکومت میں پشتون علاقوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں بلوچ علاقوں کیلئے 8کھرب کا پیکج منظور کیا گیاجبکہ پشتون علاقوں کومسلسل نظر انداز کرکے ایم پی اے کے فنڈز تک کو روک دیئے گئے۔اور ساتھ ہی موجودہ صوبائی حکومت اپنے دعووں کو سچ ثابت کرنے کیلئے لازمی ہے کہ جام کمال کے دور میں ہونیوالی بدترین کرپشن کی تحقیقات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں