سائبر حملے میں تمام ڈیٹا محفوظ ہے، نیشنل بینک کی صارفین کویقین دہانی
کوئٹہ:بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے نیشنل بینک آف پاکستان (NBP) کی مینجمنٹ کی جانب سے اس بات کا صارفین کو یقین دلایا گیا ہے کہ گزشتہ روزکے سائبرحملے سے تمام مالیاتی ڈیٹا الحمد اللہ محفوظ ہیں۔29 اکتوبر کی رات کو بینک کے آئی ٹی انفراسٹرکچر پر سائبر حملے کے بعدتمام ڈیٹا محفوظ ہے۔تیس اکتوبرکی صبح NBP کے سرورز پر ایک سائبر اٹیک کا پتہ چلا جس نے اس کی کچھ سروسز کو متاثر کیا۔تاہم ماہرین نے اس خطرات کا مقابلہ کیا اورسسٹمز کے متاثرہ حصوں کی مرمت کر دی گئی ہے۔موجودہ صورتحال کے پیش نظر بینکنگ سروسز بشمول ATMs، تنخواہیں، پنشن کی تقسیم ودیگر بینک سروسز یکم نومبر سے اپنے معمولات کے مطابق جاری وساری ہیں۔بلوچستان بھر کی بینک کی تمام شاخیں جس میں کوئٹہ سمیت گوادر، تربت، کوہلو، خضدار، قلات،مستونگ، نوشکی، پنجگور، ڈیرہ مرادجمالی، ڈیرہ اللہ یار، اوستہ محمد، چمن، قلعہ عبداللہ، کچلاک، ژوب، لورالائی، زیارت، سبی، مسلم باغ، مچھ، ڈیرہ بگٹی اور دیگر تمام برانچیں شیڈول کے مطابق کھلی ہوئی ہے،جس میں صارفین کومکمل طور پر سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔تاہم بینکنگ کی ضروریات کو ہر ممکن حد تک بہتر طریقے سے پورا کیاگیا ہے،این بی پی کی ٹیموں نے صورتحال کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے 48 گھنٹوں کے دوران ماہرین کی مدد لے کر اس پر قابو پایا گیااس حوالے سے مختلف ریگولیٹری اداروں کے تعاون اور رہنمائی کے لئے ان کی مدد لی گئی،اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کام کیا گیا۔نیشنل بینک آف پاکستان کا بلوچستان میں سائبر حملے سے بینک خدمات کا سلسلہ جزوی طور پر متاثر ہواتھا، تاہم منیجمنٹ کی بروقت کاروائی کے باعث متاثرہ سسٹم کو بروقت الگ کر دیا گیا، بینک کو کسی قسم کے ڈیٹا یا مالیاتی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔سائبر حملے کے تدارک اور سسٹم کی مکمل درستگی کے لیے دستیاب وسائل اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات بروئے کار لائی گئیں۔نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے ڈیٹا سرورز پر سائبر حملے کے بعد آئی ٹی سسٹم بحال کر دیا گیا ہے۔نیشنل بینک بلوچستان کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ بینک صارفین کا ڈیٹامکمل طور پر محفوظ ہے۔اس حوالے سے صارفین کو بینکنگ خدمات بشمول اے ٹی ایم، تنخواہوں اور پینشن کی باقاعدہ ادائیگیاں کی جارہی ہیں۔ بینک عملے نے 29 اکتوبر کی رات اور 30 اکتوبر کی صبح بینک کے ڈیٹا سینٹر پر سائبر اٹیک کے بعد نیشنل بینک کے سرورز صارفین کے لیے منقطع کردیئے تھے۔حملے کے توڑ کے لئے ماہرین نے 48 گھنٹوں کی مسلسل کوششوں کے بعد صورتحال کو قابو کرلیا ہے۔بینک صارفین کا ڈیٹا محفوظ ہے اور بینک کا سسٹم مکمل طور پر بحال ہوگیا ہے۔دریں اثنا نیشنل بینک آف پاکستان صوبہ بلوچستان کے صارفین نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں این بی پی کی سروسز بحال رہیں۔ تنخواہ، پینشن اور دیگر سہولیات مکمل طور دی جارہی ہیں۔صارفین کے مطابق بلوچستان کی حالیہ وقت میں صوبائی سطح پر مینجمنٹ کی تبدیلی کے باعث نیشنل بینک آف پاکستان کی صوبہ بھر کی تمام برانچیں اپنے تئیں صحیح کام کررہی ہیں۔صارفین نے نیومینجمنٹ سے اپیل کی ہے کہ کوئٹہ کے نواحی علاقے سریاب روڈ، بروری روڈ، ایئرپورٹ، جوائنٹ روڈ، مشرقی ومغربی بائی پاس سمیت دیگر ضرورت یافتہ جگہوں پر نیشنل بینک آف پاکستان کے اے ٹی ایم کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔


