ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایا جائے، اسد عمر
کوئٹہ:وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت جنوبی بلوچستان کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس منعقدہوا اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیاچیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز رانا کی منصوبوں سے متعلق تفصیلی بریفنگدی گئی اجلاس میں وفاقی وزیر زبیدہ جلال، رکن اسمبلی ظہور بلیدی، اے سی ایس داخلہ ارشد مجید، اے سی ایس ترقیات حافظ عبدالباسط سمیت تمام متعلقہ سیکرٹریز و دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں مواصلات، ایریگیشن، صحت، تعلیم، ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی اور دیگر شعبوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں،توپک، سولر کور، شادی کور، گربا، شینزک، سوکھار ڈیم،جنوبی بلوچستان کے لئے ایل پی جی کی فراہمی، پاک۔چائنا ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل انسٹیٹیوٹ گوادر، سیف سٹی پروجیکٹ گوادر اور تربت سے متعلق بریفنگ دی گئی۔وفاقی وزیر اسد عمر نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کو یقینی بنایاجائے۔اس موقع پر ترقیاتی منصوبوں میں ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر، صاف پانی کی فراہمی اور بہتر استعمال، زراعت اور لائیو سٹاک، آئی ٹی، توانائی، صنعت و تجارت، افرادی قوت، تعلیم اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔اسد عمر نے کہاکہ سڑکوں کی تعمیر سے صوبے کے لوگوں کو نقل و حرکت میں آسانی کے ساتھ ساتھ زرعی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے علاقے میں خوشحالی آئے گی اور لوگوں کی معیار زندگی بھی بہتر ہوجائیگی۔ ترقیاتی پیکیج کا خاص مقصد علاقے میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنا اور لوگوں کی زندگی معیاری بنانی ہے۔ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اسد عمر نے کہاہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو ان کاجائز حصہ دینے کیلئے پرعزم ہے وزیراعظم عمران خان کا وژن ہے کہ بلوچستان کو دیگر صوبوں کے برابرلایاجائے،پاکستان اتنا ہی ناراض بلوچوں کا ہے جتنا دوسرے لوگوں کاہے،بلوچستان میں صحت کارڈ کی اجراء جلد شروع کی جائیگی،آٹا،دالیں اور خوردنی تیل پر120ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے جس سے پاکستان کے 53فیصد گھرانے مستفید ہوں گے،بارڈر مارکیٹس پر کام کومزید تیز کیاجائے گابارڈرز کی ریگولیشن کے ساتھ قریب آبادی کے روزگارپر بھی توجہ دی جارہی ہے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، عالمی منڈی پر ہمارا کنٹرول نہیں تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ پیٹرول پر ٹیکس کم سے کم رکھیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے گزشتہ روزوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پروزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو،میرظہوراحمدبلیدی،چیف سیکرٹری بلوچستان مطہر نیاز راناودیگر بھی وموجود تھے۔اسد عمر نے کہاکہ آج بلوچستان میں وزیر اعلی سے ملاقات میں بلوچستان کی ترقی پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے،ملاقات میں جنوبی بلوچستان میں خصوصی پیکج کا جائز لیا گیاخصوصی پیکج میں جہاں کمی تھی اس کی بہتری پر بھی جائزہ لیا گیاانہوں نے کہاکہ عمران خان کا وژن ہے ریاست کی سب سے پسماندہ علاقوں میں کو پہلے ترجیح دی جائے تمام تر فیصلے عوام کے مفاد میں کئے جاتے ہیں،انہوں نے کہاکہ بلوچستان ترقی کے دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے بلوچستان گزشتہ ادوار میں حقوق سے محروم رہاہے اور بلوچستان کو جائز حق نہیں ملاوزیر اعلیٰ بلوچستان کے ساتھ مل کر کر ترقیاتی کا کام جار ی رکھے ہوئے ہیں،وزیراعظم کی ہدایت پر کوئٹہ آیاہوں اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ بھرپور کمٹمنٹ ہے،انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے کہاتھا کہ وزیر اعلی سے صحت کارڈ بارے بات چیت کی جائے،صحت کارڈ عوام کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے حالیہ ریلیف پیکج کااعلان کیاہے جس سے دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کے لوگ بھی مستفید ہوں،انہوں نے کہاکہ ویکسین مہم بہتربنانے سے متعلق بھی حکومت بلوچستان سے بات چیت ہوئی ہے،وزیراعلیٰ کی مثبت سوچ ہے،وہ صوبے کی عوام کی بہتری کیلئے سوچتے ہیں مل کر بلوچستان کو ترقی کی راہ پرگامزن کرینگے۔صحافیوں کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے اسد عمر نے کہاکہ جنوبی بلوچستان پیکج میں بڑی سڑکیں جو بلوچستان کو سندھ اور پنجاب سے منسلک کرنے کے علاوہ ہمسایہ ممالک سے منسلک کرینگے،پیکج میں پانی کے منصوبے شامل ہیں جس میں ڈیمز کی تعمیر کرکے لوگوں کو پانی فراہم کیاجائے گا اس منصوبے میں توانائی کے منصوبے شامل ہیں جس میں لوگوں کو نیشنل گرڈ سے بجلی گوادر کیلئے فراہم کی جائیگی دودراز علاقوں کو گیس پائپ لائن بچھا کر گیس فراہم کرنامشکل ہوتاہے تاہم ایل پی جی سسٹم لگایاجائے گا،بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے براڈ بینٹ کے ساتھ انہیں آئی ٹی ہنر سکھایاجائے تاکہ وہ بلوچستان کے نوجوان عالمی معیشت سے جوڑا جاسکے،پنجگور میں کھجور کی پروسسنگ پلانٹس لگائے جائیں۔انہوں نے کہاکہ ترجیحاتی اضلاع رکھے گئے ہیں،دیگر اضلاع کو بھی ترجیح دے رہے ہیں،شمالی اضلاع کیلئے بھی بجٹ میں بڑا حصہ رکھاگیاہے،انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے واضح کیاتھاکہ پیٹرول کیوں مہنگا ہو رہی ہے ہماری کوشش ہے کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑیں حکومت نے ٹیکس کم کیا پچھلے ماہ ساڑھے4سو ارب روپے ٹیکس کم کیاگیاہے آئی ایم ایف نے کہاتھاکہ جو ٹیکس نیچے لائے ہیں اس کو اوپر لے جانے کی ضرورت ہے۔آٹا،دالیں اور خوردنی تیل پر 120ارب روپے سبسڈی دی جارہی ہے پاکستان کے53فیصد گھرانوں کو یہ ریلیف دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم پاکستان کامقابلہ بنگلہ دیش اور بھارت سے کررہے تھے دونوں ممالک کی غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والے لوگوں کی تعداد پاکستان سے زیادہ ہے تیل بیچنے والا یہ نہیں دیکھتا کہ اس ملک میں امیر رہتے ہیں یا غریب،تمام دنیا بشمول پاکستان کی مجبوری ہے کہ وہ عالمی منڈی کے مطابق قیمت ادا کرتی ہے،عالمی منڈی میں 83فیصد جبکہ پاکستان میں صرف13فیصد قیمتوں میں اضافہ ہواتھا انہوں نے کہاکہ بارڈر مارکیٹس کاجائزہ لیاگیاہے اس حوالے سے کام تیز کیاجائے گا یہ معاملہ انتہائی اہم ہے چاہتے ہیں بارڈر ریگولیٹڈ ہوں،سی پیک کی کراچی منتقلی افواہ ہے۔کراچی کاپورٹ پاکستان بننے سے پہلے سے چل رہاہے۔


