ٹی ٹی پی کے ساتھ ابھی حتمی معاہدہ نہیں ہوا،افغان وزیر خزانہ

اسلام آباد:افغانستان میں طالبان حکومت کے عبوری وزیرخارجہ امیر خان متقی نے تصدیق کی ہے کہ وہ پاکستان اور تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے درمیان معاہدے کیلئے ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں،ابھی تک حتمی معاہدہ نہیں ہوا تاہم آغاز بہت اچھا ہوا ہے، معاہدے کے پہلے حصے میں ایک مہینے کی فائربندی پر اتفاق ہوا ہے، دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جاری رہے گی۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت ‘دونوں فریقین کی خواہش’ پر اس معاہدے میں تیسرے فریق اور ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے،ابھی تک حتمی معاہدہ نہیں ہوا ہے تاہم آغاز بہت اچھا ہوا ہے اور معاہدے کے پہلے حصے میں ایک مہینے کی فائربندی پر اتفاق ہوا ہے، دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جاری رہے گی۔اس سوال پر کہ شدت پسند تنظیم داعش افغانستان میں ان کی حکومت کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے، امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ داعش خطرہ تو ہے تاہم ان کی حکومت نے ملک کے بڑے حصے سے اس کا خاتمہ کر دیا ہے،انڈیا کے ساتھ تعلقات کے سوال پر امیر خان متقی نے بتایا کہ افغانستان، انڈیا سمیت کسی ملک کے ساتھ تنازع کا خواہاں نہیں،افغانستان کی موجودہ حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ ہمارا دنیا کے کسی بھی ملک کیساتھ ٹکرا ؤنہ ہو،ہم نہیں چاہتے کہ افغانستان کا کسی اور ملک کے ساتھ کوئی ٹکرا ؤہو یا ایسے چیلنجز آئیں جو ہماری قوم کو متاثر کریں سو ہم اس معاملے پر کام کرتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں