بارڈر بندش سے لوگوں کا ذریعہ معاش نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، جعفر مندوخیل
کوئٹہ:پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی رہنماء وسابق صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہاہے کہ قمر الدین کاریز بارڈر کی بندش سے علاقے کے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں زراعت تباہ اور کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے گھروں میں فاقے پڑھ رہے ہیں،بارڈر کی بندش اور سختی جیسے اقدامات حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت کا باعث بنیں گے،کورکمانڈ بلوچستان اور آئی جی ایف سی سے اپیل ہے کہ وہ معاملے کانوٹس لیں اور لوگوں کی مشکلات کے خاتمے کیلئے بارڈر کھول دیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔شیخ جعفر مندوخیل نے کہا کہ قمر الدین کاریز کی مکمل بندش سے علاقے کے لوگوں کی تجارت ختم اور علاقہ مکین نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں علاقہ میں قحط پڑگیاہے اس سے قبل چمن بارڈر کو بند کیاگیا تھا اوراب قمر الدین کاریز مکمل بند کیاگیاہے یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہاکہ بارڈر کے قریب ہونے کی وجہ سے علاقے میں نہ تو زراعت ہے نہ ہی کوئی دوسرا کاروبار ان کا ذریعہ معاش صرف اور صرف بارڈر سے وابستہ ہے بارڈر بند کرکے علاقے کے لوگوں کو بے روزگار کرنے سے آخر کار لوگوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ ایسے اقدامات حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نفرت کا باعث بنیں گے لوگوں کا یہ عالم ہے کہ اب وہ گھروں میں آٹے کیلئے بھی محتاج ہوگئے ہیں انہوں نے کے کاروبارکا دارومدار بارڈر تجارت سے وابستہ ہے لہٰذاء حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ عوام کی مشکلات مدنظررکھتے ہوئے فوری طورپر بارڈر کھولنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے مرکزی حکومت دعوؤں اور وعدوں تک محدود ہے مقتدر حلقوں سے گزارش ہے کہ وہ عوام کی مشکلات کیلئے بارڈر کھول دیں تاکہ لوگوں کا ذریعہ معاش بحال ہوں،انہوں نے کہاکہ اب تو افغانستان میں بھی دوست حکومت تشکیل پائی ہے چمن بارڈر کی طرز پر قمر الدین کاریز کھول دیاجائے اور سختی ختم کی جائے۔انہوں نے کہاکہ کورکمانڈ بلوچستان اور آئی جی ایف سی سے اپیل ہے کہ وہ معاملے کانوٹس لیں اور لوگوں کی مشکلات کے خاتمے کیلئے بارڈر کھول دیں۔


