گوادر اور بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے نااہل حکمرانوں کو الٹی میٹم دے دیا ہے، ہدایت الرحمان بلوچ
کوئٹہ:جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ گوادر بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے نااہل حکمرانوں کو الٹی میٹم دے دیا ہے۔ہم آئین وقانون کے مطابق اپنا حق عزت وانصاف مانگ رہے ہیں۔حقوق کے حصول انصاف میسر ہونے تک ہماری جدوجہد جاری رہیگی گوادر کو حق دو تحریک ودھرنا کسی پارٹی یاادارے یا فردکے خلاف نہیں حکمران ہم کو انصاف دیں۔حقوق کے حصول تک گوادرمیں عوامی دھرنا جاری رہیگا۔ملکی آئین کے تحت اپنے جائز حقوق کے حصول کیلئے میدان میں عوام کیساتھ نکلے ہیں ہم چیک پوسٹوں پر ماؤں بہنوں اوربیٹیوں کی بے عزتی مزید برداشت نہیں کریں گے سیکورٹی فورسزاہل بلوچستان کو انسان سمجھ لیں عزت نفس کا خیال رکھیں اور غیروں کے بجائے اپنوں جیسا رویہ رکھیں۔ان خیالات کااظہارگوادرکو حق دو تحریک کے روح رواں جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے گوادرواہی چوک پر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا دھرنے میں ہزاروں نوجوانوں،سیاسی سماجی مذہبی رہنماؤں وکارکنوں نے کثیر تعدادمیں شرکت کی اس موقع پر مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ جھونپڑیوں والوں نے عالی شان محلوں کا محاصرہ کرلیا تو حکمرانوں کو بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا۔ظلم و جبر کا استحصالی نظام تلپٹ ہونے والا ہے۔ظلم کے نظام پر خاموش رہنا سب سے بڑی منافقت ہے۔گوادر مکران کے عوام نے حکمرانوں سے حقوق لینے کا فیصلہ کرلیا اب ہم حقوق لیے بغیر پیچھے نہیں ہٹھیں گے۔حکمران وعدوں بے عمل اعلانات وخالی خولی دعوؤں سے باز آجائے اور مظلوم عوام کو ان کاجائز قانونی آئنی حق دیں انتظامیہ،حکومت و منتخب نمائندوں نے اب تک اپنا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا۔ اب تک حکمرانوں نے ملک و قوم کو سوائے پریشانیوں اورمشکلات کے کچھ نہیں دیا۔72سالوں سے ملک پر ایک ہی طبقہ اور ایلیٹ کلاس مسلط ہے جس نے کرپشن،اقرباء پروری اورذاتی مفادات کی تکمیل کو ہی اپنی کارکردگی سمجھا،قومی خزانے کو لوٹ کر باہر منتقل کیا اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے قرضے لیکر قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا۔ ملک پر جاگیرداروں،وڈیروں اور سرمایہ داروں کی حکمرانی ہے،جو قوم کا خون چوس کر اس کے مستقبل سے کھیلتے رہے اور عوام بھی انہی سانپوں اور بچھوؤں کو دودھ پلاتے رہے بلوچستان کے معدنی اور قدرتی وسائل کو صوبے کی ترقی کیلئے استعمال نہیں کیا گیا،بلوچستان میں ہرجگہ پسماندگی،محرومیاں اور مجبوریاں نظر آتی ہیں۔صوبے میں تعلیم،صحت اور روزگار کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی۔یہاں کے حکمرانوں نے عوام پر فرعونی نظام مسلط کئے رکھا۔ بلوچستان کے زرخیز ترین علاقوں میں سے ایک ہے مگر یہاں کے عوام آج بھی پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ انسان ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے چاند پر پہنچ گیا ہے جبکہ ہمارے ہاں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ بلوچستان کی سڑکیں موہن جوداڑوکا نقشہ پیش کررہی ہیں،لوگوں پر ایک خوف مسلط ہے،ہر کوئی فریادی ہے مگر یہاں کوئی فریاد سننے والا نہیں۔


