عثمان کاکڑ نے پشتون قومی تحریک کیلئے جو کردار ادا کیا وہ تمام کارکنوں کیلئے مشعل راہ ہے، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی

مسلم باغ: پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر افغان ملی شہید ملی اتل محمد عثمان خان کاکڑ کے مزار، علمی مرکزو ریسرچ سینٹر کے تعمیر کے سنگ بنیاد رکھنے کے موقع پرپروقار اجتماع سے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رضا محمد رضا، مرکزی وصوبائی سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال، مرکزی سیکرٹری عبید اللہ جان بابت، پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری یوسف خان کاکڑ، ضلعی سیکرٹری چیئرمین اللہ نور، ضلعی ڈپٹی سیکرٹری حاجی دارا خان جوگیزئی،خوشحال خان کاکڑ، سردار آصف خان سرگڑھ، اے این پی کے جوائنٹ سیکرٹری ہدایت اللہ کاکڑنے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکرٹری صوبائی صدر ملی اتل ملی شہید عثمان خان کاکڑکو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملی شہید کے مزار اور علمی مرکز،ریسرچ سینٹر کی تعمیر کے افتتاح کا یہ موقع ہم سب کیلئے اس عزم کی تجدید ہے کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے انتھک محنت اور طویل اور صبر آزما جدوجہد کرتے ہوئے انتہائی جرات کے ساتھ پشتون قومی تحریک میں جو کردار ادا کیا وہ پارٹی کے تمام سیاسی جمہوری کارکنوں کیلئے مشعل راہ ہے۔مقررین نے کہا کہ ملک میں آئین کی بالادستی،پارلیمنٹ کی خودمختیاری، عدلیہ ومیڈیا کی آزادی، قوموں کی برابری کا حقیقی فیڈریشن، جمہور کی حکمرانی اور سیاست میں ایجنسیوں کی مداخلت اور ملک میں مسلط ناروا غیر جمہوری حکمرانوں کی جانب سے ملک کے طول وعرض اور تمام صوبوں میں کسی بھی ناروا ظلم وجبرکیخلاف آوازبلند کرنے پر عثمان خان کاکڑ کو شہید کرنے کی کارروائی نہ صرف قابل مذمت بلکہ مکمل قابل گرفت ہے اور شہید عثمان خان کاکڑ نے ایوان بالا میں اپنا مقدمہ اس لیئے درج کروایا تھا کہ بعد میں میں کسی گمنام کھاتے میں نہ ہو۔ مقررین نے کہا کہ صوبائی اور مرکزی سلیکٹڈ مسلط حکمرانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ اُن کے ایوان بالا کے تقریر کا نوٹس لیتے اور اُن سے معلومات حاصل کرتے اور جو لوگ اُن کے دھمکیوں میں ملوث ہوتے انہیں کیفرکردارتک پہنچاتے لیکن صوبائی اور مرکزی حکومت نے ایسا کوئی کردار ادا نہیں کیاہے۔ اور ساتھ ہی پارٹی کے اُ س مطالبے پر جس میں سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں واقعہ کی تحقیقات کرتے لیکن حکومت نے جان بوجھ کر ان کی شہادت پر مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ مقررین نے کہا کہ اس سے پہلے مختلف آمرانہ ادوار اور غیر جمہوری حکمرانوں کے ہاتھوں خان شہید کی شہادت،7اکتوبر 1983اور 11اکتوبر 1991کے،27اپریل 2000پشتون آباد کے شہداء دراصل ملک پر مسلط آمریت کے خلاف جمہوریت، جمہوری سیاسی نظام، ووٹ کی تقدس پر ہمارے سیاسی اکابرین اور کارکن جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ ہم اپنے ان تمام شہدا ء اور تمام ملک میں جمہوریت کے شہداء کی قربانیوں پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن جو پشتونخواملی عوامی پارٹی کی ذیلی طلباء کی نمائندہ تنظیم ہے اس تنظیم کو منظم کرنے اور فعال بنانے اور اس کے ذریعے پشتون قومی تحریک کے مقاصد کو آگے بڑھانے میں شہید عثمان خان کاکڑ کاکردار نہ صرف قابل فخر ہے بلکہ ہم سب پر یہ لازم ہے کہ ہم ان کے اصولی جدوجہد کی راہ اپنا کر پشتون قومی سیاسی جمہوری مقاصد اور اہداف کی تکمیل کریں۔ مقررین نے کہا کہ افغانستان پر مسلط طویل جنگ کے بعد آج بھی ہمسایوں کی جانب سے مداخلت جاری ہے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے ایک قرارداد کے تحت مختلف ممالک کی فوجیں افغانستان کی استقلال،ملی حاکمیت ارضی تمامیت اور افغانستان کو دہشتگردوں سے چھٹکارا دلانے کیلئے آئی تھیں اور اب بھی اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کی استقلال ملی حاکمیت، ارضی تمامیت اور تمام ہمسایوں کی مداخلت کا مکمل خاتمے کی ضمانت دیں۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ شہید عثمان خان کاکڑ کے قتل کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیں تاکہ وہ آزادانہ اور خودمختیارانہ طور پر تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ ملک کے 22کروڑ عوام کے سامنے لائیں تاکہ اس طرح قومی سیاسی جمہوری کارکنوں کے قتل کے ناروا اور مکروہ عمل کا خاتمہ کیا جاسکے اور ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچایا جائیں تاکہ آئندہ ایسی مجرمانہ،سفاکانہ کارروائیوں کا تدراک کیا جاسکے۔ اجتماع میں کوئٹہ، پشین، زیارت، سنجاوی، ژوب،ہرنائی،لورالائی،شیرانی، موسیٰ خیل،نوشکی سمیت مختلف اضلاع کے پارٹی رہنماؤں وکارکنوں سمیت زندگی کے ہرمکتبہ فکر کے لوگوں نے شرکت کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں