بلوچستان میں لوگوں کو ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں کسی کو کچھ نہیں پتا،علی احمد کرد
لاہور: سپریم کورٹ بار کے سابق صدر اور سینئر وکیل علی احمد کرد نے کہا ہے کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔ جان کی بازی لگائیں گے تو یہ ملک بچے گا، اب اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا ہو گی جو ستر سال سے ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال رہا ہے، بلوچستان میں لوگوں کو ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں کسی کو کچھ نہیں پتا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ علی احمد کرد نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر کی آواز غریبوں کی آواز تھی، عاصمہ جہانگیر کی آواز میں ایک چیخ اور گونج تھی، وہ یہ نہیں سوچتی تھیں کہ انکی آواز کن کے کانوں میں جا کے ہل چل مچائے گی، ملک میں کون سے جوڈیشری موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا اس جوڈیشری کی بات ہو رہی ہے جہاں لوگ صبح 8 سے ڈھائی بجے لوگ سینوں پر زخم لے لے کر گھر جاتے ہیں۔ کیا یہ عدلیہ انسانی حقوق کی حفاظت اور جمہوری اداروں کی حفاظت کرے گی۔ مجھے افسوس ہوتا ہے میں ایک ذمے دار انسان ہوں، افسوس ہے کہ ہم اس حالت میں کیسے پہنچے۔ بائیس کروڑ عوام کا ملک ہے اور ایک جرنیل بائیس کروڑ عوام کے اوپر حاوی ہے۔ علی احمد کے خطاب کے دوران آزادی آزادی کے نعرے لگائے گئے، علی احمد کرد نے کہا کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وقت ہو گیا ہے۔ جان کی بازی لگائیں گے تو یہ ملک بچے گا،یا اس جرنیل کو نیچے آنا پڑے گا یا لوگوں کو اوپر جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جرنیل اور پاکستان کے شہری میں کوئی فرق نہیں ہو گا۔ پاکستان کی جوڈیشری کو 126 نمبر پر جرنیلوں نے پہنچایا ہے۔


