بلوچستان میں ہر تیسرا گھر ماورائے قانون عمل سے متاثر ہے، ہمشیرہ لاپتہ ودود ساتکزئی
کوئٹہ :ہمشیرہ ودود ساتکزئی گل زادی بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے یہاں ہر تیسرا گھر اس ماروائے قانون عمل سے متاثر ہے کسی بھی شخص کو جبری طور پر لاپتہ کرنا عالمی انسانی حقوق کے تحت ایک جرم ہے اس وقت پورے بلوچستان میں ایک خوف کا ماحول ہے علاقائی عینی شاہدین گواہی دینے سے خوف کا شکار ہیں میں انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ میرا پورا خاندان کرب وازیت میں مبتلا ہے میرا بھائی ودود ساتکزئی کو باحفاظت منظر عام پر لایاجائے ان خیالات کا اظہار پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتی ہوئی گل زادی بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگی کے واقعات نئی بات نہیں ہے یہاں ہر تیسرا گھر اس ماروائے عمل سے متاثر ہے کسی بھی شخص کو جبری طور پر لاپتہ کرنا عالمی انسانی حقوق کے تحت ایک جرم ہے میں بھی اس غیر قانونی عمل سے متاثر ایک بہن کی حیثیت آپ لوگون کے سامنے آئی ہوں میرے 19سالہ ودود ساتکزئی کو 12اگست 2021کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا جس کے بعد ان کے حوالے سے ہمیں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ودود ساتکزئی کو اس کے دوست نثار ولد اسماعیل شاہ گھر سے بلاکر اپنے ہمراہ لے گیا عینی شاہدین کے مطابق سیاہ شیشے والی گاڑیان بھی موجود تھی نثار ولد اسماعیل شاہ نے باتو ں باتوں میں میرے بھائی کو ان تک پہنچایا جب وہ نزدیک پہنچے تو سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے میرے بھائی کے منہ پر کپڑا ڈالا اور گاڑی میں پھینک کر اپنے ہمراہ لے گئے اس وقت پورے بلوچستان میں ایک خوف کا ماحول ہے علاقائی عینی شاہدین گاہی دینے سے خوف کا شکار ہیں میرا بھائی ایک طالبعلم ہے وہ فارغ وقت میں اپنے بھائی کے ساتھ کوئلہ کان میں مزدوری کا کام کرتا ہے اور مغرب کے وقت وہ اگھر آتا تھا مذکورہ شخص نے دھوکہ دہی اور غلط بیانی کے تحت ودود ساتکزئی کو جبری طور پر لاپتہ کروایاہے کسی بھی شخص کے لاپتہ ہونے سے نہ صرف وہ شخص متاثر ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ پورا خاندان کرب ازیت میں مبتلا ہوتا ہے بھائی ودود ساتکزئی کے جبری گمشدگی سے ہمارا پور ا گھر متاثر ہوچکا ہے ہم اس کے بحفاظت بازیابی کے منتظر ہیں اس حوالے سے ہم مسلسل لاپتہ افراد کیلئے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں احتجاج ریکارڈ کراتے رہے ہیں جبکہ حکام بالا سے ودود ساتکزئی کے بازیابی کے خلاف اقدامات اٹھانے کی اپیل کرچکے ہیں لیکن تاحال ہمیں انصاف نہیں مل سکا ہے ہم ایک بار پھر حکام بالا، علاقائی وعالمی انسانی حقوق کے تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ودود ساتکزئی سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے اپنا کردار ادا کریں دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کی طرح ہم بھی یہ مطالبہ دہرانا چاہتے ہیں کہ اگر کسی پر کوئی الزام ہے تو اس کو ملکی قوانین کے تحت عدالت میں پیش کرکے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔


