26 نومبر بلوچ قومی سیاسی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے

26 نومبر بلوچ قومی سیاسی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے اس دن ہمیں وہ قومی درسگاہ فراہم کیا جس کیلئے بلوچ قوم تاابد اپنے ان اکابرین کا احسان مند رہیگا۔ بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بی ایس او کی 54 ویں یوم تاسیس کے حوالے سے سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 نومبر بلوچ تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے اس دن ہمیں وہ قومی درسگاہ دیا جس کا بلوچ قوم تاابد اپنے ان اکابرین کا احسان مند ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنس آرگنائزیشن نے بطور طلباء تنظیم بلوچ قومی جہد کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے میں ناقابل فراموش کردار ہے اور اس کے عوض میں تنظیم نے اپنی قیادت و اراکین کی شہادت و عقوبت خانوں میں زندہ درگور کرنے کا بہت بڑا بوجھ بھی برداشت کیا ہے لیکن ان قربانیوں و رکاوٹوں کے باوجود بی ایس او آج بھی بلوچ طلباء کی سیاسی،  علمی اور پرامن جمہوری جدوجہد میں صف اول کا کردار ادا کررہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ریاست نے بلوچ طلباء کی سیاسی و جمہوری سوچ سے ہمیشہ خطرہ محسوس کیا ہے جس کی بنیاد پر وقتاً فوقتاً بلوچ طلباء کی سیاسی جہد میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ بی ایس او نے بلوچستان میں جاری قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ، جبری گمشدگیوں و دیگر ناانصافیوں کے تدارک کیلئے متحرک کردار ادا کیا ہے۔

ترجمان نے کہا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عظیم تنظیم میں شامل بہت سے لوگوں نے آستین کے سانپ کا کردار ادا کرکے بی ایس او کو اپنی ذاتی و ریاستی مفادات کیلئے نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے اور وقتی طور پر شاید انھوں نے خود کو فتح یاب بھی محسوس کیا ہے لیکن قوم کے عظیم و پختہ سپوتوں نے ہمیشہ قومی فکر کو فروغ دی ہے۔ شہید فدا بلوچ کی شہادت اور شہید حمید کی شہادت پر وعدہ معاف گواہ بننے والے آج بڑی دیدہ دلیری سے خود کو قومی مسیحا کے طور پر پیش کررہے ہیں لیکن ہم واضح کرتے ہیں بلوچ طلباء اپنے لیڈروں کی شہادت سے کبھی فراموش نہیں ہوں گے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ 26 نومبر کو تنظیم کے 54 ویں یوم تاسیس کے مناسبت سے مرکزی پروگرام کوئٹہ میں منعقد ہوگا جبکہ تمام زونوں میں بھی پروگرام منعقد ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں