مجھے کسی نے نہیں نکلا میں نے خود استعفیٰ دیا ہے،جام کمال

کوئٹہ: سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے کہا ہے کہ مجھے کسی نے نہیں نکلا میں نے خود استعفیٰ دیا ہے جسکی وجہ بلوچستان عوامی پارٹی کو ٹوٹنے سے بچانا اور پی ڈی ایم کی جماعتوں کو راستہ نہ دینا تھی بلوچستان میں اب اپوزیشن موجود نہیں 65 کاایوان ہی پوری حکومت ہے اپوزیشن کے ہوتے ہوئے بلامقابلہ وزیر اعلیٰ منتخب ہونا عجیب روایت ہے جسکی تحقیقات ہونی چاہئیں وزرات اعلیٰ جانے کے بعد بھی اسمبلی آنے کا مقصد اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہے کیونکہ میں ایک حلقے کا منتخب نمائندہ بھی ہوں وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو مشورہ دوں گا کے وزیر اعلیٰ ہاؤس عوامی ہونے کے ساتھ ایکزیگٹو بھی ہے کہیں دفتری معاملات متاثر نہ ہوں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو گلہ بھیجا تھا کہ آپ سے شکایت نہیں لیکن آپکے بھائی نے میرے استعفیٰ دینے پر مٹھائیاں بانٹیں اوروکٹری کا نشان بناتے رہے جس سے شک و شبہات پیدا ہوتے ہیں اس کی وضاحت ہونی چاہئے ان خیالات کا اظہار اْنہوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں کیا اْن کا مزید کہنا تھا کہ میں نجی مصرفیات کے باعث ایک ماہ کیلئے نہیں صرف 10دن کیلئے باہر تھااس دوران میں کراچی گیا اور اپنے حلقے بھی گیا تھاایسا نہیں ہے کہ وزیر اعلیٰ اگر وزرات اعلیٰ سے گیا تو وہ صوبے سے چلا جائے اور سیاست سے ہی غائب ہوجائے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ایک رکن اسمبلی بھی ہے میں ایک حلقے کا منتخب نمائندہ ہوں مجھ پر ذمہ داریاں بھی ہیں وزیراعلیٰ قدوس بزنجو سیاسی طور پر کہے سکتے ہیں کہ میں معاملات ٹھیک نہیں چلا سکا لیکن زمینی سطح پر حقائق دیکھیں توکچھ اور ہیں ساڑھے تین سال میں ہم نے تمام عوامی منصوبے بنائے جن میں اصلاحات، پالیسی، ہیلتھ کارڈ اور تاریخی ترقی کا سفر شامل ہے جسکا اعتراف قدوس بزنجو خود بھی کرتے ہیں اور وہ ہمارے ہی بنائے گئے منصوبوں کا آجکل افتتاح بھی کر رہے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سیاسی ہونے کہ ساتھ انتظامی بھی ہوتا ہے اگر وزیر اعلیٰ کو معلوم ہی نہیں ہوگا کہ بجٹ کیسے بنتا ہے ترقیاتی کام کیسے ہوتے ہیں اور وہ چیزیں دوسروں کے حوالے کرد ے تو کیسے بہتر گورنینس ہوسکتی ہے وزیر اعلیٰ کو پالیسی بنانے کے ساتھ دینا بھی ہوتی ہے اسی بنیاد پر میں گھنٹوں اجلاس کرتا تھا جسکی مجھ پر تنقید بھی ہوتی تھی لیکن وہ تمام اجلاس صوبے کے مفاد میں ہوتے تھے اگر تمام معاملات آفسران کو دے دئیے جائیں تو گورننس کیسے چلے گی موجودہ حکومت میں آپ دیکھ لیں کہ ڈھڈ ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کابینہ کا پہلا اجلاس بھی نہیں ہوسکاثناء بلوچ اوراپوزیشن اراکین کہتے تھے جام کمال کی حکومت میں ہر روز احتجاج ہوتے ہیں تو اب اْس سے زیادہ احتجاج تو ہم نے اس حکومت کے صرف ڈھڈ ماہ دیکھے ہیں گودار میں احتجاج کوئٹہ میں پانی کا احتجاج ہرنائی والوں کا احتجاج اور ڈاکٹرز نے ہڑتال کی ہوئی ہے اب تو بلوچستان میں اپوزیشن ہے ہی نہیں 65 کا پورا ایوان حکومت ہے تو مسئلے حل ہونے چاہئے اْنہوں نے کہا کہ کچھ افراد نے وفاق اور خاص کر وزیر اعظم عمران خان کو بلوچستان کے حالات کوبرعکس پیش کیا جا رہا تھا کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں آرہی ہیں پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوجائے گی یقینی طور پر وہ بھی سوچنے پر مجبور ہوئے لیکن انہوں نے مجھے کبھی یہ نہیں کہا کہ استعفیٰ دے دوں ہمیشہ یہی کہاکہ دیکھیں تما م معاملے میں پی ڈی ایم کو فائدہ نہ پہنچے چئیرمین صادق سنجرانی نے شروع میں کوشش کی تھی وہ اور پرویز خٹک مجھ سے اور ناراض اراکین سے ملے تھے تاہم آخر میں اْنہوں نے مجھ سے کہا کہ ناراض اراکین نہیں مان رہے وہ کہتے ہیں استعفیٰ نہ آیا تو اپوزیشن کے ساتھ حکومت بنانے کی طرف جائیں گے اور اْنہوں نے بے بسی کا اظہار کیا جسکی بنیاد پر میں نے سمجھا کہ اس کا فائد ہ اپوزیشن اور بلوچستان عوامی پارٹی کو نقصان نہ پہنچے ماحول ایسا بن گیا تھا کہ جو کچھ ہم کر بھی سکتے تھے ہم نے نہیں کیا اْنکا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے ہوتے ہوئے بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہونا عجیب سی روایات ہے خاص کر جہاں پی ڈی ایم اور دیگر جماعتیں سب ساتھ ہیں اس پر تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے بلوچستان میں نمبر گیم کم ہونیکی وجہ سے پوری حکومت ہل جاتی ہیں مجھے وزرات اعلیٰ جانے کا کوئی دکھ نہیں ہے اگر لوگ خوش نہیں تھے تو ٹھیک ہے میں سائیڈ پر ہوں اپنی سیاست کروں گا آج بھی اسمبلی گیا ہوں حکومت کو اس وقت مالی بحران کا سامنا نہیں ہے سنگین مسئلہ یہ ہے کہ 100 ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبے روک گئے ہیں اگر یہ بحال نہ ہوئے تو اس کے اثرات اضلاع شہر گاؤں اور گلی محلوں تک جائیں گے قدوس بزنجو کو کہوں گا کہ وہ بی اے پی جماعت کے ممبر ہیں اگر وہ چاہیں تو میرے چند مشوروں پر عمل کریں مجھ پر تو تنقید ہوتی تھی کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس عوامی نہیں ہے لیکن میں اْن سے کہوں گا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس عوامی کے ساتھ ایگزیکٹو بھی ہے اگر اْنہوں نے دفتری معاملات سے خود کو دور رکھا تو مسائل ہونگے کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں اس وقت اپوزیشن کے چند اراکین کے مشورے دئیے جارہے ہیں ایک سوال کے جواب میں اْنکا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی نے ذاتی طور پر شروع میں تو کوشش کی معاملہ حل ہو لیکن ان سے گلہ یہ ہے کہ اْنکے بھائی اعجاز سنجرانی نے دوسرے کیمپ میں اہم کردار ادا کیا اور جب مستعفی ہوا تو اْنہوں نے مٹھائیاں بھی بانٹیں اور وکٹری کے نشان بھی بنائے میں کسی کے زریعے یہ بات چئیرمین سینیٹ کے سامنے رکھی ہے کہ آپ اس میں شامل نہیں ہیں لیکن آپ کے بھائی کی سرگرمیوں سے شک و شبہات پیدا ہوئے ہیں جنکی وضاحت ہونی چاہئے پارٹی کے الیکشن کے حوالے سے اْنہوں نے کہا کہ میری کوشش ہے کہ الیکشن جلد ہوں اس ماہ الیکشن کرانے تھے جو ہو نہیں سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں