جبری گمشدگی کے معاملے پر انوارالحق کاکر اور شیریں مزاری میں جھڑپ

اسلام آباد:قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں اپوزیشن کی عدم شرکت سے حکومت میں بے چینی،انوار الحق کاکڑ اوروفاقی وزیر شریں مزاری میں جھڑپ ہوئی ہے،شیریں مزاری کے جبری گمشدگی کے معاملے پر سوالات پر سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ آپ کو اس طرح کے سوالات کابینہ اجلاس میں پوچھنے چاہیئں، آپ جبری گمشدگی کے معاملے پر چیمپئن بنتی ہیں تو استعفیٰ کیوں نہیں دیتیں، بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ظلم کا شکار ہونے والوں کے خلاف کون بولے گا؟ایم کیو ایم کے دور میں بھی لوگ لاپتہ ہوتے رہے ان پر کوئی بات نہیں کرتا،سپیکر اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنا چاہئے تھی،پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا کورم پورا تھا اس لئے اجلاس منعقد کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر شیریں مزاری اور سینیٹر انوار الحق کاکڑ کی تلخ کلامی بھی ہوئی،شیریں مزاری کے جبری گمشدگی کے معاملے پر سوالات پر سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ آپ کو اس طرح کے سوالات کابینہ اجلاس میں پوچھنے چاہیئں، آپ جبری گمشدگی کے معاملے پر چیمپئن بنتی ہیں تو استعفی کیوں نہیں دیتیں، بی ایل اے کے دہشتگردوں کے ظلم کا شکار ہونے والوں کے خلاف کون بولے گا؟ایم کیو ایم کے دور میں بھی لوگ لاپتہ ہوتے رہے ان پر کوئی بات نہیں کرتا۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ اپوزیشن کو قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شرکت کرنا چاہئے تھی،پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا کورم پورا تھا اس لئے اجلاس منعقد کیا گیا۔ایک سوال پر اسد قیصر نے کہا کہ وزرا آئے بھی تھے کچھ وزرا کو وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں جانا پڑا کمیٹی کو قومی سلامتی بابت تیار کی جانے والی پالیسی پرمشیر قومی سلامتی نے بہت اچھی بریفنگ دی ہے۔جی ڈی اے کی رکن اسمبلی سائرہ بانو نے قومی سلامتی کمیٹی پر ردعمل میں کہا کہ ہمیں یہ بریفنگ دی گئی ہے کہ پانی کا برتن ڈھک کر رکھنا ہے،گیس کا ہیٹر بند کر کے سونا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں