تعلیمی اداروں سے بلوچ طلباء کی گمشدگی تشویشناک ہے، پی ایس ایف

کو ئٹہ:پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کیمرکزی جنرل سیکرٹری مزمل خان کاکڑنیکہاہیکہ بلوچستان یونیورسٹی ہاسٹل سمیت بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں سے بلوچ طلباکی جبری گمشدگی تشویشناک صورت حال اختیارکرتی جارہی ہے، ایک طرف بلوچ طلبا کی حفاظت کے بلندوبانگ دعوے کئے جارہے ہیں جبکہ دوسری جانب آئے روزتعلیمی اداروں سے طلباکی جبری گمشدگیوں میں اضافہ ہورہاہے جوایک المیے سے کم نہیں، جس کیخلاف بلوچستان کی سب سے بڑی درسگاہ بلوچستان یونیورسٹی کوگزشتہ35روزسے احتجاجابندرکھاگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت وقت ہی اپنی رعایاں کے جان ومال کی تحفظ کے ضامن ہے تاہم بلوچستان یونیورسٹی کے جبری طورپرلاپتہ طالبعلموں کا ابھی تک کوئی سراغ نہ ملناسوالیہ نشان ہے آج 35ویں روزبھی گمشدہ طلبا کومنظرعام پرنہ لاناحکمرانوں کی بے بسی کا منہ بولتاثبوت ہے پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں کئے گئے وعدوں پرخاطر خواہ پیش رفت ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے بلوچستان حکومت مسئلے کاحل سنجیدگی سے نکالے ورنہ طلباکو سخت لائحہ عمل اپناناہوگامزمل خان کاکڑنے کہاکہ پشتون ایس ایف اورعوامی نیشنل پارٹی بلوچستان یونیورسٹی کیمغوی طلبا کی بازیابی کویقینی بنانے کیلئے ہرفورم پرآوازاٹھانافرض سمجھتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں