ایس بی کے انتظامیہ کا طالبات کیخلاف ایکشن لینے پرسخت احتجاج کیا جائے گا، طلباء تنظیمیں بلوچستان
کوئٹہ:بلوچستان کے طلباء تنظیموں نے سرداربہادر خان وومن یونیورسٹی کے انتظامیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پر امن طالبات پرکسی قسم کی تشدد اور گرفتاری جیسے طریقہ کار استعمال کیاگیا تو احتجاج کیاجائے گا،یونیورسٹی انتظامیہ سے طالبعلموں کے جائز مطالبات پرفوری عملدرآمد بنانے کیلئے اقدامات کی جائیں ا گر طالبات کے خلاف کسی قسم کا ایکشن لیا گیا اور طالبعلموں کی گرفتار عمل میں لائی گئی تو تمام طلباء تنظیمیں مشترکہ طور پر ایسے گھناؤنے عمل کے خلاف سخت رد عمل دیں گے۔گزشتہ روزبلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزشین،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار)،پختون اسٹودنٹس فیڈریشن،پی ایس ایف(آزاد)،پی ایس او کے جاری کردہ ا علامیہ میں انتظامیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ پر امن طالبات کے خلاف کسی قسم کی تشدد اور گرفتاری جیسے طریقہ کار کو بروئے کار نہ لایا جائے بلکہ جامعہ انتظامیہ سے طالبعلموں کے جائز مطالبات پرفوری عملدرآمد ب نانے کیلئے اقدامات کی جائیں ا گر طالبات کے خلاف کسی قسم کا ایکشن لیا گیا اور طالبعلموں کی گرفتار عمل میں لائی گئی تو تمام طلباء تنظیمیں مشترکہ طور پر ایسے گھناؤنے عمل کے خلاف سخت رد عمل دیں گے سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے طالبات گزشتہ چند ہفتے سے جامعہ انتظامیہ سے مطالبہ کرتے آرہے تھے کہ جامعہ میں بنیادی سہولیات میسر نہیں اور طالبعلم اس سکت سردی میں کلاسز سمیت امتحانات کی تیار نہیں کرسکتے چنانچہ جامعہ انتظامیہ طالبعلموں کو سہولیات مہیا کریں تاکہ ہاسٹل میں رہائش پذیر ہوکرطالبعلم امتحانات دے سکیں اگر جامعہ انتظامیہ سہولیات مہیا نہیں کرسکتی تو دہ ماہ کیلئے سردیوں کی چھٹیاں دے کر مارچ کے مہینے میں ا متحانات کاانقاد کرے لیکن ایس بی کے یونیورسٹی انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور طالبعلم کے مطالبات سننے کے بجائے طالبعلم پر پریشر ڈالتی رہی ہے جامعہ انتظامیہ کا ایسا رویہ ناقابل قبول ہے ایس بی کے جامعہ انتظامیہ نا اہل ہے جہاں طالبعلموں کو سہولیات میسر نہیں کی جاتیں اور طالبعلموں کی شنوائی نہیں کی جاتی وہیں طالبعلموں کے آواز دبانے کیلئے مختلف ہربوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جس کی واضح مثال طلباء تنیموں کی جانب سے کوئٹہ بھر کے تعلیمی ادارے بند کرنے کے اعلان کے خلاف جامعہ انتظامیہ کا رد عمل واضح دلیل ہے جامعہ انتظامیہ نے جہاں طلباء تنظیموں کی کال کوٹھکرا یا وہیں طالبعلموں کو جبری ور پر ہاسٹلوں سے نکال کر کلاسز میں لے جا یا گیا لہٰذاج امعہ انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی پراس حد تک قائم ہے کہ طالبعلموں کی آواز کو دبانے کیلئے طاقت اور تشدد جیسے طریقوں سے ب ھی باز نہیں کیا جاتا۔اعلامیہ کے آخر میں طلباء تنطیموں نے کہا کہ سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے احتجاجی طالبعلموں کے مطالبات جائز اور حق پرمبنی ہے طالبعلموں کے مطالبات کو ماننے کے بجائے احتجاجی طالبعلموں کے خلاف ایکشن لینے کیلئے ضلعی انتظامیہ کو بلا نا نہایت ہی تشویشناک اور گھاؤنا عمل ہے تمام تنظیمیں طالبعلموں کی مطالبات کا حمایت کرتے ہیں اور جامعہ انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ طالبعلموں کی مطالبات پر جلد از جلد عملدرآمد کی جائے ا گر طالبعلموں کے مطالبات نہیں مانے گئے اورکسی قسم کی ناروا سلوک اپنائی گئی تو طلباء تنظیمیں سخت رد عمل دیں گے جس کی ذمہ دار جامعہ انتظامیہ اور ضلعی انتظامیہ ہوگی۔


