اسلا م آباد کے استعماری قوتوں کا پشتون اور بلوچ اقوام کے ساتھ نفرت روز اول سے ہے، این ڈی ایم

کوئٹہ:نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے بیان میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کوسٹ گارڈ اور ایف سی کی جانب سے مسافر بسوں، مال بردار ٹرکوں کو چیکنگ کے بہانے کئی گھنٹے روکنیاور مسافروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹروں کو ہراساں اور تذلیل کرنے کے غیر آئینی و غیر قانونی اور غیر انسانی عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے آیف سی اور کوسٹ گارڈ کے عوام دشمن چیک پوسٹوں کو ختم کرکے صوبے کے عوام اور تاجروں و ٹرانسپورٹروں کواپنے صوبے اور ملک کے اندر سفر اور تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔بیان میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے استعماری و آمرانہ قوتوں اور ملکی اداروں بالخصوص وفاقی حکومت کی فورسز نے ملکی آئین و قوانین کے برخلاف پشتون بلوچ اقوام و عوام اور صوبے کے ساتھ دشمنی و نفرت اور امتیازی و غیر انسانی طرزعمل روز اول سے شروع کی ہے اور اب اس اس استعماری طرزعمل میں مزید اضافہ کرکے ماضی میں حاصل حقوق اور تجارت و کاروبار کے مواقع بھی ختم کیے گیے ہیں اور ہمارے عوام اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ دور میں بھی اپنی سرزمین میں غلاموں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ کوسٹ گارڈ اور ایف سی کا کوہٹہ کراچی کے شاہراہ سے کوئی تعلق نہیں۔کیونکہ ایک کوسٹ جبکہ دوسری سرحدوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہے اور عوام نے ان کو یہ ذمہ داریاں سونپی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر صوبوں بالخصوص پنجاب میں کسی بھی شاہراہ پر ان فورسز کو وجود بھی نہیں اور وہاں کے عوام، ٹرانسپورٹروں۔تاجروں کو تجارت و کاروبار اور سفر میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں حالانکہ انڈین باڈر سے متصل عوامی آبادی کو تجارت و کاروبار اور سفر کا بنیادی انسانی حق حاصل ہے جبکہ پشتون بلوچ عوام اور صوبے کو کالونی اور مستعمرہ بناکر جنگی قیدیوں سے بدتر سلوک کیا جا رہا ہے۔اور گزشتہ دنوں کوسٹ گارڈ کے غیر قانونی چیک پوسٹ پر کوچز کمپنی کے مالک کو اپنی کوچ کو اس ظلم سے تنگ آکر جلانی پڑی۔بیان میں کہا گیا کہ صوبے میں قایم صوبائی حکومت نے اپنی اقتدار اور ذاتی و خاندانی مفادات کیلئے میں مگن ہیں جبکہ صوبے کے عوام، ٹرانسپورٹروں،تاجروں، سیاسی کارکنوں اور ہرشبعہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کو ان فورسز کے ظلم و جبر کے حوالے کیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
22-12-2021
قلات(آن لائن)بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز الائنس قلات کے ڈپٹی کنوینر حافظ عبدالقدوس عباسی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ قلات میں خون جما دینے والی سردی کے پیش نظر جہاں طبقات زندگی کے تمام تر سہولیات گیس بجلی کے حوالے سے مسائل کے شکار ہے اسی طرح قلات کے سرکاری ملازمین بھی کافی مسائل کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ اس شدید سردی کی وجہ سے ہمارے پولیس لیویز و دیگر فورسز کے نوجوان دوران ڈیوٹی بھی مشکلات کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان ملازمین کے مطالبات کو تسلیم کرنے کی بجائے ٹال مٹول سے کام لے رہی ہیں جو قابل مذمت اقدام ہے اس حوالے سے بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس قلم چھوڑ ہڑتال شروع کرنے کے حوالے سے اپنی لائحہ عمل طے کریگی انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی کے ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں کام چھوڑ ہڑتال اور احتجاج کررہے ہیں اور پورے بلوچستان کچروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ہے جبکہ حکومت بلوچستان کے سربراہ کو پرواہ ہی نہیں ہے انہوں نے کہاکہ حکومت بلوچستان جون سے قبل دوران احتجاج ملازمین کے باقی دس فیصد بڑھانے اور دیگر مطالبات پر عملدرآمد جبکہ میونسپل کمیٹی اور میونسپل کارپوریشن کے تنخواہوں کو ریلیز اور مذکورہ محکمے کے فنڈز جاری کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں بصورت دیگر بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس تمام اضلاع میں کام چھوڑ ہڑتال اور وزیر اعلی ہاس کا گھیرا کرینگے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز قلات میں اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ قلات کیلئے مختلف آسامیوں کا انٹریو ہوا ہے مگر اس انٹریو میں ہمارے قلات کے کھیل سے تعلق رکھنے والے متعدد امیدواروں نے انٹریوز دیئے ہیں وہ غریب سپورٹس مین عرصہ 15 سالوں سے اسپورٹس اسٹیڈیم میں بلا معاوضہ کام کررہے ہیں اگر ان اسپورٹس مینوں کی حق تلفی کی گئی تو ہم اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے خلاف تحریک چلائینگے اور ان کے خلاف کورٹ کا دروازہ بھی کٹکھٹائیں گئے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
22-12-2021
قلات(آن لائن)بلوچستان کے علاقے قلات میں بارہ افراد میں اومیکرون وائرس کی موجودگی کی اطلاعات غلط ہے اور بے بنیاد ہے یہ ایک افواہ اور سازش ہے حقیقت سے اسکا کوئی تعلق نہیں۔ ہمیں جان بوجھ کر تنگ کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار قلات سکنہ مرجان کے رہائشیوں سیف اللہ مینگل، میر محمد مینگل نے پریس کانفرس کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز ہم اپنے کھیتوں پر کام کیلئے گئے تھے ہمارے گھروں میں صرف خواتین اور بچے موجود تھے کہ ایک گاڑی شہر میں گھس کر آئی تھی جس میں لیویز اہلکاران ہمارے گھروں میں گئے نہ وہ کسی کو کواطلاع دی جبکہ ایک ڈاکٹر بھی ان کے ساتھ موجود نہیں تھا اور کہا گیا کہ آپ لوگوں میں کوروناوائرس کا ایک خاتون ہے ہم ان کو قرنطیہ کرینگے تو ہم لوگ حیران ہوگئے کہ اس حوالے سے اس سے پہلے نہ آج تک کوئی ہمارے علاقہ آیا ہے نہ ہی ہمارا کرونا وائرس ٹیسٹ کیا گیا ہے اور اس سے پہلے ایک ٹیم آئی تھی کہ آپ لوگ اپنے شناختی کارڈز دے دو ہم آپ کے لئے کروناوائرس ویکسین کارڈز بنائینگے لیکن اب زبردستی سے ہمیں کرونا وائرس کے نام پر شامل کیا گیا ہے اور ہمارے گھروں میں گھس کر بلوچی رسم و رواج و روایات کی تقدوس کو پامال کیا گیا ہے ہم بھی بلوچ ہے اپنے عزت کی خاطر جان تک دینگے مگر ایسے بزدلانہ حرکت کبھی برداشت نہیں کرینگے انہوں نے کہاکہ یہ ایک افواہ ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں انہوں نے وزیراعلی بلوچستان، وزیرصحت، چیف سیکرٹری، سیرٹری ہیلتھ، کمشنر قلات ڈویژن، ڈپٹی کمشنر قلات و دیگر اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان لیویز اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرے ورنہ ہم احتجاج پر مجبور ہونگے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
22-12-2021
پشین(آن لائن)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پشین شہر ان کے ملحقہ آبادی اور تمام علاقوں میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ اور پریشر میں کمی مزید قابل برداشت نہیں بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کے اٹھانے کے عوام دشمن عمل قابل مذمت ہے۔ گیس پریشر کی کمی نے ضلع پشین کے تمام عوام کو عذاب میں مبتلا کررکھا ہے اگر گیس پریشر میں مزید اضافہ نہیں کیا گیا تو احتجاج کومزید وسعت دی جائیگی۔ ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، ضلعی معاون سیکرٹری امین اللہ بشر، علاقائی ایگزیکٹوشمس جمال،پیر حمد اللہ، ڈاکٹر حیات خان،حسام الدین خان اچکزئی، سلیم خان اچکزئی، عبید اللہ اور ملک جانان نے شرقی تراٹہ اور بازار کہنہ علاقائی یونٹوں کے زیر اہتمام واپڈا آفس پشین اور گیس دفتر پشین کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے پہلے شرقی تراٹہ اور بازار کہنہ کے علاقے سے احتجاجی ریلیاں نکال کر تمام بازار کا گشت کیا اور مذکورہ بالا محکموں کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی۔ مقررین نے کہاکہ پشین شہر اور تراٹہ کی آبادی میں بجلی کی مسلسل لوڈشیڈنگ نے تمام عوام کو بدترین مشکلات سے دوچار کررکھا ہے اور بالخصوص خان شہید فیڈر کی آبادی میں روزانہ کی بنیاد پر طویل لوڈشیڈنگ مسلط کی گئی ہے اور مختلف محلوں سے ٹرانسفارمرز اٹھائے گئے ہیں جبکہ گیس پریشر میں کمی کے باعث شدید سردی کے موسم میں بزرگ، بوڑے افراد، خواتین،بچے اور مریضوں کو سخت ترین اور اذیت ناک صورتحال کاسامنا ہے۔ اور دوسری طرف گیس کے ناجائز بلوں اور سلو چارجز کے نام پر عوام کو لوٹا جارہا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے مظاہرے کے بعد واپڈا اور گیس حکام سے ملاقاتیں کی جس میں طے پایا گیا کہ پشین شہر شرقی تراٹہ میں بجلی کی سپلائی میں مزید تین گھنٹے اضافہ کیا جائیگا اور جن وارڈز میں بجلی منقطع کی گئی ہے وہ بحال کی جائیگی اور خان شہیدفیڈر کو ہنگامی طور پر دو حصوں میں تقسیم کرکے فوری طور پر دوسرے فیڈر کی منظوری حکام بالا سے لی جائیگی اور گیس حکام کے ساتھ یہ طے پایا کہ جن علاقوں میں 24گھنٹے گیس کی سپلائی نہ ہو اُن علاقوں میں گیس سلو چارجز غلط ہے اور پریشر بڑھانے کیلئے حکام بالا سے رابطہ کرکے پچھلے ہفتے کی صورتحال بحال کی جائیگی اور جن علاقوں میں نئی لائنیں اور بائی پاس لائن بچھائی گئی ہے اُن کو مین لائنوں کے ساتھ منسلک کیا جائیگا۔ مقررین نے کہا کہ اگر ہمارے مطالبات کو عملی جامع نہیں پہنایا گیا تو دوبارہ وسیع بنیادوں پر احتجاج ہوگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں