اعتزاز احسن بھی جہانگیر ترین اور نوازشریف کے حق میں بول اٹھے

اسلام آباد:معروف قانون دان اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ نوازشریف تاحیات نااہل ہوئے ہیں، میں اس قانون کے حق میں نہیں ہوں، موجودہ حکومت گری تو اپنے وزن سے گرے گی۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق اعتزاز احسن نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمن، شاہد خاقان عباسی وغیرہ مان رہے ہیں کہ اگر ان پر سے مقتدر حلقوں کا ہاتھ ہٹ جائے تو ہم ان کو آسانی سے ہرا دیں گے۔اصل میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ غیر جانبدار ہو جائیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے حق میں جانبدار ہو جائیں تو ہم ان کو گرا لیں گے،یہ کوئی بات نہیں ہوئی۔ اعتزاز احسن نے نواز شریف کی تا حیات نااہلی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اس عدالتی فیصلے کے حق میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف تاحیات نا اہل ہوئے ہیں، میں اس قانون کے خلاف ہوں۔دوسری جانب آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کے فیصلے کے خلاف درخواست تیار کر لی گئی ہے۔درخواست سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے تیار کی ہے جو جلد سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔ اس سے قبل سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر احسن بھون نے کہاہے کہ کسی بھی شخص کو تاحیات نااہل نہیں قرار دیا جاسکتا، اس حوالے سے سپریم کورٹ بار کے تمام عہدیداروں سے مشاورت مکمل کرلی گئی ہے اور آئندہ ہفتے تاحیات نااہلی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکی جائے گی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کے خلاف سپریم کورٹ بار نے پٹیشن تیار کرلی ہے جو جلد سپریم کورٹ میں دائر کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کسی آڈیو اور وڈیو کی سیاست میں نہیں پڑے گی۔قبل ازیں بھی احسن بھون نے کہا تھا کہ تاحیات نااہلی کا قانون بھی جلد چیلنج کیا جائیگا۔ احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ازخود نوٹس میں اپیل کے معاملے پر دوبارہ غور کریں گے۔اللہ کے پاس بھی توبہ کا دروازہ ہے۔خدائی اختیار تو کسی انسان کے پاس نہیں۔ پارلیمنٹ سپریم ہے اس پر سوال نہیں اٹھانا چاہئیے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کو اپنے ووٹرز پر اعتماد کرنا چاہئیے پھر نظام بھی تبدیل کر سکیں گے۔ پارلیمنٹ نے ترمیم کے ذریعے ہر آنے والے آرمی چیف کے لیے دروازہ کھول دیا ہے۔فوج بھی ہمارا ادارہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پوری عمر کی نااہلیت قانون کے برخلاف ہے۔ انہوں نے کہاکہ ججز سینیارٹی کا معاملہ بھی حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں