افغان خواتین کے حقوق کیلئے رینا امیری امریکی مندوب مقرر

واشنگٹن:امریکہ نے افغانستان میں خواتین کے حقوق کے دفاع کے لیے افغان نژاد امریکی خاتون اسکالر رینا امیری کو مندوب مقرر کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے’ اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے خواتین پر پابندیاں عائد کرنے کے بعد خصوصی نمائندہ کی تعیناتی سے یہ اشارہ ملتا ہت کہ افغان خواتین امریکہ کے نزدیک ترجیحی اہمیت رکھتی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے اعلان کیا کہ افغان نژاد امریکی اسکالر اور ثالثی کی ماہر رینا امیری، جو سابق امریکی صدر باراک اوبامہ کے دور میں محکمہ خارجہ میں خدمات انجام دیتی رہی ہیں، افغان خواتین، لڑکیوں اور انسانی حقوق کے لیے مندوب کا کردار ادا کریں گی۔

خیال رہے کہ افغانستان میں اپنی 20 سالہ جنگ کے خاتمے کے مہینوں بعد، اینٹونی بلنکن نے کہا کہ رینا امیری ’میرے لیے انتہائی اہم‘ مسائل اور صدر جو بائیڈن کی باقی انتظامیہ کی مشکلات کے حل کے لیے کام کریں گی۔

اینٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم ایک پرامن، مستحکم اور محفوظ افغانستان چاہتے ہیں، جہاں تمام افغان سیاسی، اقتصادی اور سماجی تفریق کے بغیر رہیں اور ترقی کر سکیں‘۔یاد رہے کہ طالبان نے 1996 سے 2001 تک اپنے پہلے دور حکومت میں افغانستان میں انتہائی سخت نظام نافذ کیا تھا، جس میں خواتین کے کام کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی بھی شامل تھی۔

طالبان کی جانب سے رواں برس اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ماضی سے مختلف انداز سے کام کرنے کے وعدوں کے باوجود، کئی خواتین کو کام پر واپس آنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ لڑکیاں بڑی حد تک ثانوی تعلیم سے محروم ہیں۔واضح رہے کہ 26 دسمبر کو طالبان نے کہا تھا کہ خواتین کو محرم کے بغیر طویل سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی اور گاڑیوں کے مالکان خواتین کو اس وقت تک سوار نہ کریں جب تک کہ وہ سر پر اسکارف نہ پہنیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں