جام کمال کو وزیر اعلی کی کرسی کی حیثیت کا علم نہیں، ثناء بلوچ

کوئٹہ:بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی ثناء بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان لیڈر شپ کی بحران سے گزررہا ہے بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی کرسی بہت اہم ہے بد قسمتی سے جام کمال کواس کی حیثیت کا علم نہیں ہے اس منصب پر سردار عطاء اللہ مینگل،نواب اکبر خان بگٹی سمیت اعلیٰ شخصیات اس کی اہمیت اور حیثیت سمجھتے تھے اور تمام اضلاع کو بلا تفریق ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے میرا دل خون کے آنسوؤں روتا ہے جب کورئی پوچھتا ہے کہ بلوچستان کا بجٹ کتنا ہے 20سال میں 200ارب روپے لگے ہیں پھر بھی کوئٹہ کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے بلو چستان میں پالیسیوں کافقدان ہے ان خیالات کااظہار ثناء بلوچ نے ڈیجیٹل ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ 7سالوں سے بلوچستان کی پی ایس ڈی پی کا مرکز سمینٹ اور سریا رہا ہے بلوچستان میں پالیسیوں کا فقدان ہے حکومت غیر منتخب لوگوں کو نوازا جارہا ہے بلوچستان حکومت کے پاس جامعہ پالیسی نہ ہونے کے باعث 60فیصدبجٹ لیپس ہوجاتا ہے بلوچستان میں ایک سڑک بار بار بن رہی ہے میرادل خون کے آنسوؤں روتا ہے جب کوئی پوچھتا ہے کہ بلوچستان کا ٹوٹل بجٹ کتنا ہے 20سال میں 200ارب روپے کوئٹہ میں لگے ہیں پھر بھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے حکومت کے پاس نہ ہی کوئی ویژن ہے نہ ہی کوئی صلاحیت ہے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنے لپیٹ میں بلا تفریق رنگ اور نسل لے لیا ہے یہ حقیقت ہے اس کاادراک عوام کو کرنا چاہیے پاکستان لیڈر شپ کی بحران سے گزررہا ہے بلوچستان میں وزیراعلیٰ کی کرسی بہت اہم ہے اس کرسی پر سردار عطاء اللہ مینگل،نواب اکبر خان بگٹی سمیت اعلیٰ قد آر شخصیات رہ چکے ہیں اور وہ تمام اضلاع میں بلا تفریق ایک نظر سے دیکھتے تھے اس وقت کرسی کی حیثیت نہ سمجھنے کی وجہ سے حکومت کے اپنے ہی کابینہ کے اراکین ناراض ہورہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں