بم دھماکے کی رپورٹ پرصوبائی حکومت کی سرد مہری سمجھ سے بالاتر ہے،مولانا عبدالقادر لو نی

کوئٹہ:جمعیت علماء اسلام نظریاتی بلوچستان کے صوبائی امیر مولاناعبدالقادر لونی کے زیر صدارت اجلاس ہوا اجلاس میں سائنس کالج دھماکہ پر صوبائی حکومت کی سردمہری اور تحقیقات سامنے نہ لانے پر غور خوض ہوا اور آئندہ لائحہ عمل پر اجلاس میں تجاویز پیش کئے کل کے اجلاس میں فیصلہ ہوگا اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالقادر لو نی نے کہا کہ بم دھماکے کی رپورٹ پرصوبائی حکومت کی سرد مہری سمجھ سے بالاتر ہے حکومت کب تک ہمارے صبر کا امتحان لے گی وعدے کی باوجود چمن دھماکے کی رپورٹ نہیں لایاگیا اب پھرصرف مذمتی بیان پر اکتفاء کرتے ہیں اب بھی ملوث مجرموں کو گرفتار نہیں کیا تو لائحہ عمل کا اعلان کرینگے ہم جنازوں کو وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے رکھتے تو یہ سردمہری نہ ہوتے انہوں نے کہا کہ تمام ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کو مزید جنگلستان نہ بنائے۔حکومت بدامنی کا مسئلہ ذمہ داری اور سنجیدگی کیساتھ لیے عوام کی تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ حکومت اور اداروں کے بے حسی سے دشمن بلوچستان میں خون کی ہولی کھیل رہی ہیں حالات کی نزاکت کاادراک کرے آخری دم تک ہماری جدوجہد جاری رئیگی اگر اسلام کا نعرہ اس ملک میں جرم ہے تو یہ جرم بار بارکرتا رہوگا دہشت گردی، اندوہناک اور وحشتناک سانحات سے ہمارے راستہ روک نہیں سکتے انہوں نے کہا کہ حکومت کو آگاہ کرنے کے باوجود سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کررہے ہیں حکومت وقت مکمل غافل انتظامیہ ناکام رہے چمن کے بعد کوئٹہ میں دھماکہ حکومت کی مجرمانہ بے حسی ہے حکومت نے اب تک کچھ بھی نہیں کیا ہیں سانحات کی تحقیقات ردی کی ٹوکری میں پھینکا دیا جاتا ہے حکومت نے آج پھر ملزمان کی تعین نہیں کی اور تحقیقات سامنے نہیں لائے تو جلد لائحہ عمل طے کرینگے ہمارے شہدا اور زخمی لاوارث نہیں ہر شہید کے قطرے کا حساب دینا ہوگا

اپنا تبصرہ بھیجیں