الیکشن لڑنے کے لیے برطانوی شہریت چھوڑ دوں گا، زلفی بخاری
اسلام آباد:سابق معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ احتساب کے معاملے پر کوئی بڑی پیش رفت نہیں کرسکے، الیکشن لڑنے کے لیے اپنی برطانوی شہریت چھوڑ دوں گا۔جنگ اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق زلفی بخاری نے مزید کہا کہ اگلی حکومت بھی پاکستان تحریک انصاف کی ہوگی۔پاکستان تحریک انصاف مزید بہتر کارکردگی دکھا سکتی تھی لیکن چیلنجز بہت زیادہ تھے۔گورننس کے راستے میں مشکلات آتی ہیں۔اس طرح کی مشکلات آئیں گی اس کی ہمیں توقع نہیں تھی۔کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں گورننس خراب ہے لیکن خرابی کیا ہے کسی کے پاس جواب نہیں۔زلفی بخاری نے انٹرویو میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کہ صحت کارڈ اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے ووٹ کا حق حکومت کے بڑے کارنامے ہیں۔بیوروکریسی کو اس طرح ہینڈل نہیں کیا گیا جس طریقے سے کیا جانا چاہئے۔شاید اہم اچھے لوگوں کو فل فلیش طریقے سے آگے نہیں لا سکے۔زلفی بخاری نے کہا کہ مارچ اپریل تک انٹرنیشنل کموڈٹی پرائس کم ہونے سے مہنگائی کم ہوگی۔وزیراعظم عمران خان عوام کے لئے فکرمند اور مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔قبل ازیں۔ سابق معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا ایف آئی اے کی مرضی کے بغیر کوئی غیر قانونی طور پر باہر نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو ملوث ہے۔موجودہ حکومت نے پاکستانی ورکرز کوبیرون ملک بجھوانے کو بائیومیٹرک سے مشروط کیا اور کمیونٹی ویلفیئرز اتاشیز کی تعداد کو بڑھایا۔ تارکین وطن کے عالمی دن کی مناسبت سے کانفرنس میں وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی فخر امام کا کہنا تھا کہ تارکین وطن ملکی معیشت کی ریڑ کی ہڈی ہیں، بیرون ملک مشن کی ذمے داری ہے وہ جیلوں میں قید پاکستانیوں کا خیال رکھیں۔ تارکین وطن کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں تارکین وطن کی محفوظ واپسی، قوانین، پالیسیوں، محفوظ ہجرت کے منصوبے اور قیدوبند افراد کے حالات اور سمندرپار پاکستانی قیدیوں کی واپسی جیسے موضوعات پر اراکین پارلیمنٹ، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور ماہرین نے اپنی آرا بھی پیش کیں۔


