ایک اور تجربہ

تحریر: انورساجدی
پنجاب کی شرافیہ کی لڑائی دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ہے بظاہر تو بڑی بات نہیں لیکن اس کی وجہ وہ نراسیت اور نرگیست ہے جو ریاست کی ناکامی کے خوف سے پیدا ہوئی ہے اس لئے سیاستدان حکمران اور اشرافیہ کے حاشیہ بردار گماشتہ یا قصیدہ خوان صحافی سب ایک دوسرے کو کاٹنے کیلئے دوڑرہے ہیں چند روز قبل جیو کے پروگرام میں پنجاب کے سب سے زیادہ رئیس باوسائل اور نام نہاد ایلیٹ کا لاحقہ صحافی محسن بیگ نے وہ وجوہات بتائیں جنہوں نے انہیں عمران خان کی حمایت پر مجبور کیا انہوں نے خان صاحب کو ایک ارب سے زیادہ فنڈز دلانے کا دعویٰ بھی کیا وہ شروع میں عمران خان کے بڑے صلاح کار تھے حتیٰ کہ انہوں نے اپنے دوست کو مودی سے جاکر ملنے کا مشورہ بھی دیا تھا ہوسکتا ہے کہ یہ اطلاع غلط ہو لیکن سنا ہے کہ عمران خان نے ملک ریاض کا جہاز استعمال کیا جو محسن بیگ نے حاصل کیا تھا اپنے انٹرویو میں انہوں نے شدید مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے عمران خان پر شدید تنقید کی انہیں محسن کش قراردیا اور یہ انکشاف بھی کرڈالا کہ بہت جلد عمران خان رخصت ہونے والے ہیں عمران خان کا ساتھ دینے والے کئی دیگر صحافیوں نے بھی ہوا کا رخ دیکھ کر ان کا ساتھ چھوڑدیا ہے ان میں کھرا سچ والے پستہ قامت صحافی مبشر لقمان خاص طور پر شامل ہیں 2014ء کے دھرنے کے دوران ان کی صبح وشام عمران خان کے کنٹینرپرگزرتے تھے۔
ایک اور صحافی ارشاد بھٹی ہے جو کسی دور میں میریٹ ہوٹل کے مالک صدرالدین ہاشوانی کے سیکریٹری ہوا کرتے تھے انہیں ایک خاص طبقہ صحافت کی طرف لے آیا موصوف نے ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر بہتان تراشی بدکلامی عوام اور جمہوریت کیخلاف ایسی ہرزہ سرائی کی کہ صحافت کی چولیں ہل گئیں یہ وقت تھا جب ٹی وی چینلوں کو کنٹرول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا میڈیا کے اس ہم حصہ پرقبضہ کا مقصدسیاستدانوں کو روئے زمین کا بدترین طبقہ ثابت کرنا انکے کرپشن کی کہانیوں کو عام کرنا اور عمران خان کو فرشتہ ثابت کرنا تھا یہ شروع کا معاملہ تھا مقتدرہ اور عمران خان کی تازہ تازہ نسبت ٹھہری تھی اس لئے عشق ومحبت کا جوش کچھ زیادہ تھا اسی دور کا ایک کردار کامران خان بھی تھا جو غضب کرپشن کی عجب کہانیاں بیان کرتا تھا انکے بارے میں مشہور تھا کہ انہیں جو اسکرپٹ دیا جاتا تھا وہ اس میں مرچ مصالحہ لگاکر اپنی توتلی زبان میں چرب زبانی کے ساتھ پیش کرتا تھا اس لڑائی کا مقصد شریف خاندان کو اشرافیہ سے نکال کر دوبارہ لوہار بنانا تھا اس مقصد کیلئے مشہور ومعروف صحافی حسن نثار نے بھی بڑا کردارادا کیا یہ تمام لوگ مختلف اوقات میں زگ زیگ پر چلتے رہے حسن نثار کو تو لوگ عمران خان کا فدائی بھی کہتے تھے کیونکہ وہ مخالفین پر حملہ کرنے کیلئے خودکش حملہ بھی کرتے تھے درمیان میں حسن نثار نے عمران خان کی حمایت پر معافی بھی مانگی لیکن عمران خان کی مکمل ناکامی کے بعد جب انہیں اور کچھ سجھائی نہ دیا تو انہوں نے جمہوریت آئین اور پارلیمانی نظام کیخلاف ہی محاذ کھول دیا حال ہی میں موصوف ایک پروگرام میں فرمارہے تھے کہ کونسی جمہوریت جومصلی اس کا نام لیتے ہیں انہیں فائرنگ اسکواڈ کے سامنے کھڑاکرنا چاہئے حسن نثار کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ معمار عمران خان سے مایوس ہوگئے ہیں اور وہ کچھ اور سوچ رہے ہیں اگران کا بس چلتا تو آئین اور پارلیمان کی بساط ہی لپیٹ لیتے لیکن ان کے سامنے کئی رکاوٹیں ہیں ماضی کی طرح ان کا بھی جی چاہتا ہے کہ تمام سیاستدانوں سے جان چھڑائیں لیکن بوجوہ وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں حسن نثار،ارشاد بھٹی،مبشر لقمان،کامران خان اور ایک نئی تخلیق عمران ریاض خان آج کل آقاؤں کے کہنے پر ایک نیا راگ درباری الاپ رہے ہیں یہ لوگ 1973ء کے آئین18ویں ترمیم اور صوبوں کے سرے سے مخالف ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کی مکمل ہیجامنی کیلئے وحدانی طرز کا صدارتی نظام ہونا چاہئے ان کو خوش فہمی ہے کہ ایک آمرانہ اور فسطائی نام کے ذریعے ہی ریاست کو قائم اور مضبوط رکھا جاسکتا ہے بلکہ ایک دن حسن نثار فسطائی نظام کی تعریف میں رطب اللسان تھے اور کہہ رتھے کہ لوگوں کوفسطائیت کا پتہ نہیں ہے اصل حکمرانی وہی ہوتی ہے اس کے جواب میں پنجابی ایلیٹ کے روشن خیال وجاہت مسعود نے کہا کہ اگرحسن نثار مسولینی کے دور میں ہوتے تو انہیں پتہ چلتا کہ فسطائیت کیا ہے ایک متوسط طبقہ کے صحافی جس نے پنجابی ایلیٹ کیخلاف بغاوت کرکے ایک طرز کی انتہاپسندی اختیار کی ہے ان کا نام ہے اسد طور انہوں نے اپنا ایک پورا بلاگ حسن نثار کیخلاف تیار کیا جو بدترین گالیوں پر مشتمل تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجابی اشرافیہ برے طریقے سے منقسم ہے جس کا نتیجہ آئندہ کچھ عرصہ میں مار دھاڑ مارکٹائی اورگالم گلوچ کی صورت میں نکلے گا اشرافیہ کے جس حصے کا خیال تھا کہ عمران خان حقیقی تبدیلی لاکر ریاست کو معاشی طورمستحکم کریں گے ان کے خواب چکنا چور ہوئے ہیں کیونکہ عمران خان نے ساڑھے تین سال کے دوران ثابت کردکھایا ہے کہ ریاست کھوکھلی ہوچکی ہے اس کی معیشت ڈوب چکی ہے اور وہ اتنے بڑے انفرااسٹرکچر کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہے ماضی میں اخراجات چالاکیوں کے ذریعے پورے ہوتے تھے لیکن امریکہ کی ناراضگی کے بعد اس نے ہر طرح کی امداد بند کردی ہے ایک دو دوست ممالک آخری امداد دے چکے ہیں آمدنی کے ذرائع محداد اور تجارت کے راستے مسدود ہوچکے ہیں برآمدات تمام کوششوں کے باوجود 26،28ارب سے بڑھ نہیں سکتے کیونکہ بیچنے کیلئے ریاست کے پاس کاٹن پارچہ جات کے سوا کچھ بھی نہیں ہے25کروڑ کی آبادی کو کھلانے کیلئے گندم چینی خوردنی تیل اور دالیں بھی باہر سے منگوانی پڑرہی ہیں جس کا بل تادیر برداشت کرنا ممکن نہیں۔
عمران خان کو معلوم تھا کہ ایک دن ریاست قلاش ہوگی اس لئے انہوں نے سندھ کے دوجزائر پرقبضہ کرکے بین الاقوامی سرمایہ داروں کو دعوت دی کہ وہ یہاں آکر ایک نیا ہانگ کانگ یا دوبئی بنالیں تاکہ دنیا بھر سے سیاح یہاں کا رخ کریں لیکن کوئی آنے پر تیار نہیں ہوا کیونکہ دنیا اس ریاست کو پر خطر سمجھتی ہے مال کے زیاں کے ساتھ جان جانے کا بھی خطرہ ہے۔
حکمرانوں کو امید تھی کہ سی پیک کے ذریعے بہتری آئیگی لیکن سی پیک کا بیڑہ انہوں نے اس وقت غرق کردیا جب آئی ایم ایف کے مطالبہ پر حاکمان وقت نے سی پیک کی ساری تفصیلات امریکہ کے سپرد کردیں کیا حکمت ہے کہ6ارب ڈالر کی خاطر57ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کرلیا جائے ایسے میں جب یہ خطرہ پیدا ہوا کہ چین اپنے قرضوں کی اقساط مانگنا شروع نہ کردے تو نظر بلوچستان کے ساحل ووسائل پرپڑی سندک میں چینی کمپنی کی لیز میں توسیع خطرے کو روکنے کی ایک کوشش تھی اس کے ساتھ ہی ریکوڈک کے ذرائع کو کام میں لانے کافیصلہ کیا گیا لیکن جرمانہ کی ادائیگی کیلئے کم بولی پر اسے نیلام کرنا پڑا اگر اسے جلدبازی میں نیلام نہ کرتے تو اس کے بدلے میں اتنی رقم مل جاتی کہ ایک دو سال کا خسارہ پورا ہوسکتا تھا چین اس لئے پر سکون ہے کہ اس کے پاس گوادر پورٹ یا معلوم نہیں کہ ان کی نظریں پورٹ کے علاوہکن چیزوں پر ہے عین ممکن ہے گوادر سری لنکا کا پورٹ ہمبن ٹوٹا بھی جائے جسے چین نے اپنے قرضوں کے بدلے حاصل کیا ہے اور جہاں پاس کے بغیر سری لنکا کے شہریوں کو داخلہ کی اجازت نہیں ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ74سال کے تسلط اور تصرف کے بعد بھی پنجابی اشرافیہ اس ریاست کو چلانے میں ناکام رہی انہوں نے ہر طرح کے تجربے کئے کبھی گورنر جنرل کانظام اپنایا کبھی صدارتی نظام کبھی پارلیمانی جمہوریت اور 31برس براہ راست فوج نے حکومت کی لیکن ریاست اپنا کوئی مقام نہ بناسکی بنگالیوں نے50سال میں اتنی ترقی کی جو پاکستان74برسوں میں نہ کرسکا یہاں کی واحد ترقی ایٹمی ٹیکنالوجی ہے لیکن یہ کوئی روٹی،چاول نہیں ہے جو لوگوں کا پیٹ بھرسکے اس کے ذریعے نہ تو گیس پیدا ہوگی نہ بجلی کی پیداوار بڑھے گی اور نہ ہی بھوک اور ننگ کا خاتمہ ہوگا مقام افسوس ہے کہ پنجابی اشرافیہ اپنی ناکامی کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔انکی آخری توقع آدھا تیتر آدھا بٹیر عمران خان سے تھی مگروہ تو پاکستان تاریخ کے ناکام ترین حکمران ثابت ہوئے اس لئے خدشہ ہے کہ آخری چارہ کے طور پر وہ کوئی نیاتجربہ کرنے جارہے ہیں اگر یہ تجربہ نوازشریف کی واپسی ہے تو اتنا پرخطر نہیں ہے لیکن کچھ اور مہم جوئی مقصود ہواتو اس کے نتائج مزید بھیانک نکلیں گے اس سے پہلے کہ باقاعدہ ڈیفالٹ کا اعلان کیا جائے ملک کو ایک بار پھر ن لیگ پیپلزپارٹی اور دیگر سیاستدانوں کے حوالے کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یہ اتنا پرخطر قدم نہیں ہوگا ورنہ ہر طرف ناکامی ہی ناکامی اور تباہی ہی تباہی ہوگی البتہ اس دوران بھانڈوں کی لڑائی سے لوگ اچھی طرح محظوظ ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں