شیرانی میں پینتیس ہزار آبادی بنیادی مرکز صحت سے محروم،شہر دور ہونے سے اموات ہوتی ہیں

ژوب: بلوچستان کے پسماندہ علاقے شیرانی میں مراکز صحت فعال نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں افراد کو شدید مشکلات کا سامنا، ژوب کے دوردراز پہاڑی علاقے لنڈئی منگل زئی حریفال کے رہائشی ولی خان نے بتایا کہ ژوب شہر سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر ان کے گاوں میں انیس سو چورانوے میں سول ڈسپنسری تعمیر کی گئی تھی، لیکن ستائیس سال گزرنے کے باوجود بھی فعال نہ ہوسکی ڈسپنسری کے آس پاس دیہات میں بیس کلومیٹر تک کوئی مرکز صحت موجود نہیں جس کے باعث پینتیس ہزار آبادی طبی سہولیات سے محروم ہے۔ انھوں نے کہا کہ مذکورہ ڈسپنسری اس وقت تعمیر کی گئی تھی جب شیرانی ژوب ضلع کا حصہ تھا اس وقت کے ایک سابق صوبائی وزیرنے مرکز صحت کی تعمیر کی منظوری دی تھی، تاہم متعلقہ حکام کی نااہلی کے باعث نہ تو اسے رجسٹر کیا گیا اور نہ ہی تاحال فعال کیا گیا ہے شیرانی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر دولت شاہ حریفال نے بتایا کہ اپنی مدد آپ کے تحت مذکورہ مرکز صحت کی مرمت کام شروع کردیا گیا ہے، عنقریب مقامی لوگوں کی مالی مدد سے اسے فعال کیا جائے گا اور یہاں کے ہزاروں خواتین اور بچے اس مرکز صحت سے مستفید ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ علاقے میں طبی سہولت، سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے کثیر آبادی متاثر ہے اور خواتین زچگی کے دوران شہر جاتے ہوئے دم توڑتی ہیں۔ مرکز کی مرمت کے ساتھ ساتھ اس میں خواتین اور بچوں کے علاج معالجے کے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ڈاکٹر دولت شاہ حریفال کے مطابق ضلع دوردراز اور وسائل کی کمی کے باعث یہاں کا ہیلتھ سسٹم نہ صرف غیرفعال بلکہ شدید مشکلات میں گرا ہوا ہے۔ انھوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع کے دوردراز علاقوں میں بنیادی مراکز صحت کو فعال کرکے لوگوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کرنے کوشش کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں