بارڈر سے ایف سی کے اختیارات ختم کرکے مقامی انتظامیہ کے سپرد کئے جائیں،مولاناہدایت الرحمن

پنجگور: حق دو تحریک کے بانی ہدایت الرحمن نے کہا کہ بارڈر سے ایف سی کے اختیارات ختم کرکے مقامی انتظامیہ کے سپرد کئے جائیں بلوچستان کے عوام کی مذید تذلیل برداشت نہیں کریں گے منشیات نے ہماری نسلوں کو کھولا کردیا ہے ہماری تحریک بارڈر پر آزادانہ کاروبار پر قدغن اور منشیات کے خلاف ہے اور 16 جنوری تک معاہدوں پر عمل درآمد کرانے کا وعدہ کیاگیا ہے دیکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت اپنے وعدوں کی کس طرح پاسداری کرے گی ان خیالات کا اظہار انہوں نیبسم اللہ چوک پنجگور میں ایک بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا جلسہ سے سابق صوبائی وزیر میر غلام جان بلوچ مسلم لیگ ن کے ڈویڑنل کوآرڈینیٹر اشرف ساگر پیپلزپارٹی کے رہنما آغا شاہ حسین جماعت اسلامی کے ضلعی امیر حافظ صفی اللہ سابق امیر مولانا نورمحمد مدنی زاکر شاہ فرہاد بلوچ حافظ سراج احمد اور دیگر نے خطاب کیا مولانا ہدایت الرحمن کا پنجگور پہنچنے پر 14 چوک پر استقبال کیاگیا اور اسے گاڑیوں کے ایک جلوس کی شکل میں جلسہ گاہ پہنچایا گیا مولانا ہدایت الرحمن نے حق دو تحریک کے زیر اہتمام جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں درپردہ قوتوں کے آلہ کار بتانے والے یہ تو بتائیں کہ باپ پارٹی اور اس کا وزیراعلی کن قوتوں کی پیدوار ہے جنہیں وہ وزارت اعلی کی کرسی پر بھٹانے کے لیے پرجوش نظرائے مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ بارڈر پر ایف سی کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے تمام اختیارات مقامی انتظامیہ کے حوالے کرکے ایف سی کو تفویض کردہ پولیس اختیارات بھی واپس لیئے جائیں انہوں نے کہا کہ بارڈر پر آزادانہ روزگار ہمارا حق ہے پنجگور کے عوام حق دو تحریک کا ساتھ دیں بارڈر سے ٹوکن سسٹم ختم ہو جائے گا عوام اطمینان رکھیں مولانا نے کہا کہ ایف سی اور دیگر ادارے روغن اور ڈیزل کو تو پکڑتے ہیں مگر منشیات جو سرعام گلی کوچوں میں بکتا ہے یہ ان اداروں کو نظر نہیں آتاانہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل تک ہمارا تحریک جاری رہے گا اور اگر صوبائی حکومت نے وعدوں کی پاسداری نہیں کیا تو ایسا دھرنا دینگے جس سے حکمرانوں کے درودیوار بھی ہل کر رہ جائیں گے عوام دل سے خوف نکال دیں اور ظلم وناانصافیوں کے خلاف میدان میں نکلیں اب ایسا نہیں ہوسکتا کہ فورسز کے لوگ سڑکوں پر ہماری ماں بہنوں بزرگوں کی بے توقیری کریں اور ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کریں جلسہ سے پیپلز پارٹی کے شاہ حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی مشکلات پر قوم پرستوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے ریکوڈک سمیت دیگر وسائل کی لوٹ مار پر یہ پراسرار خاموشی کا شکار ہیں جب عوام پر زیادتیوں کے خلاف کوئی دوسرا بات کرتا ہے اسے ایجنٹ قرار دیا جاتا ہے میر غلام جان بلوچ نے کہا کہ تعلیم صحت اور روزگار پر ہم نہ کریں تو کون آکر کرے گا عوام حق دو تحریک کا ساتھ دیں اشرف ساگر نے کہا کہ حق دو تحریک بارڈر پر ایک واضح موقف رکھتا ہے عوام کی مولانا کے جلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت ان پر اعتماد کا مظہر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں