چین پاک میڈیکل یونیورسٹیوں کے درمیان پہلے باضابطہ تعاون کے معاہدے پر دستخط

بیجنگ:چین پاک میڈیکل یونیورسٹیوں کے درمیان پہلے باضابطہ تعاون کے معاہدے پر دستخط ہو گئے، آئی ایم ڈی سی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے ڈین کہا ہے کہ اس طرح کا تعاون میرا خواب تھا،میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان رابطے کی کمی ہے، بین الاقوامی سفری پابندیوں سے ہمارے طلبائکو بہت نقصان اٹھانا پڑا،ہمیں چین کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید قریب لانے کی ضرورت ہے۔گوادر پرو کے مطابق چین کی انہوئی میڈیکل یونیورسٹی (اے ایچ ایم یو) اورپاکستان کے اسلام آباد میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (آئی این ڈی سی) کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط اور اے ایچ ایم یو،آئی این ڈی سی چائنا-پاکستان کراس کلچرل ایجوکیشنل ایکسچینج سینٹر” کی نقاب کشائی تقریب انہوئی میں منعقد ہو ئی۔ یہ چین پاک میڈیکل یونیورسٹیوں کے درمیان پہلا باضابطہ تعاون ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان میڈیکل شعبے بالخصوص میڈیکل کی تعلیم میں تعاون کی ایک طویل تاریخ ہے۔ بہت سے پاکستانی طلباء میڈیکل سے متعلقہ شعبوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے چین آ رہے ہیں۔ چین طبی شعبے میں تیز رفتار ترقی اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہسپتالوں کی وجہ سے غیر ملکی طلباء کے لیے مقبول ترین انتخاب بن گیا ہے۔گوادر پرو کے مطابق آئی ایم ڈی سی کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے ڈین احمد وقاص نے چین میں ایک سینئر پاکستانی ڈاکٹر کی حیثیت سے کہا کہ اس طرح کے تعاون کی تعمیر ان کا خواب تھا،میں نے ہمیشہ محسوس کیا کہ دونوں ممالک کے لوگوں کے درمیان رابطے کی کمی ہے، خاص طور پر طب کے شعبے میں۔ کووڈ-19 کی وبا کے بعد ہم دونوں ممالک کے پاس ایک دوسرے سے بہت کچھ شیئر کرنے اور سیکھنے کے لیے ہے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سفری پابندیوں سے ہمارے طلبائکو بہت نقصان اٹھانا پڑا اور ہمیں چین کی میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید قریبلانے کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ڈی سی اور اے ایچ ایم یو کے درمیان تعاون کے اس معاہدے میں تعلیمی، ثقافتی اور تحقیقی تعاون، تمام سطحوں پر طلباء کے تبادلے کا پروگرام، خصوصی طبی شعبوں میں مختصر اور ڈپلومہ ڈگری کورس، کلینکل اور بنیادی طبی علوم میں الحاق شدہ ہسپتالوں کا تعاون، آف شور کیمپس کا قیام اور مشترکہ تربیت پروگرام، ایجوکیشن ایکسچینج سینٹر کا مشترکہ قیام شامل ہیں۔گوادر پرو کے مطابق اے ایچ ایم یو کے پرنسپل ین شیاساو کے مطابق یونیورسٹی کی 95 سالہ تاریخ ہے، چین کی سرفہرست میڈیکل یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ اس میں 15,000 تدریسی اور طبی عملہ اور 20,000 سے زیادہ طلباء ہیں جن میں 5,000 سے زیادہ ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کے طلباء شامل ہیں۔ اس کے سات مضامین دنیا بھر میں ا ی ایس آئی کے سب سے اوپر 1 فی صد میں شامل ہیں۔ اے ایچ ایم یو نے 16 ممالک میں تقریباً 40 یونیورسٹیوں کے ساتھ تعاون کیا ہے، اور اس کے 400 سے زیادہ بین الاقوامی طلباء ہیں۔ مزید برآں، اے ایچ ایم یو نے صوبہ انہوئی میں 100 ہسپتالوں کے ساتھ ایک ” میڈیکل الائنس” قائم کیا ہے، جس میں 13 ہسپتال اس کے ساتھ منسلک ہیں جن میں 20ہزار سے زائد بستر ہیں اور سالانہ 10 ملین بیرونی مریض وزٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اے ایچ ایم یو کے نائب صدر لیانگ چاوژاوپاکستانی سفارتخانے کے سیکنڈ سیکرٹری محمد جنید اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ آئی ایم ڈی سی کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر یاسر نیازی اور آئی ایم ڈی سی کے دیگر فیکلٹی ممبران نے آن لائن شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں