مچھ، ہیروئن، چرس اور شراب کے سرعام فروختگی کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی

مچھ :مچھ میں ہیروئن چرس شراب اور دیگر نشہ آور اشیا کی سرعام فروختگی اور جوئے کے اڈوں وقمار بازی کی بڑھتی ہوئے لت کیخلاف آل پارٹیز ٹریڈ یونیز سماجی و ادبی تنظیموں سول سوسائٹی شہری ایکشن کمیٹی تحصیل مچھ کے زیراہتمام زبردست احتجاجی ریلی نکالی گئی اور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا شہری ایکشن کمیٹی میں شامل تمام تنظیموں اور سیکڑوں شہریوں نے مچھ میں بڑھتی ہوئی منشیات کی ناسور اور لعنت کیخلاف بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے اورشرکا نے مچھ پولیس اور انتظامیہ کیخلاف فلگ شگاف شدید نعرہ بازی کی ریلی جہاں سے گزرتی شہریوں کی کثیر تعداد منشیات کی لعنت کیخلاف ریلی میں شامل ہوتے گئے ریلی مچھ بازار سے ہوتے ہوئے مچھ اڈہ پر پہنچ کر احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کرگئی احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہری ایکشن کمیٹی مچھ کے چیئرمین مولانا حافظ محمد صدیق سمالانی وائس چیئرمین وڈیرہ عبدالرشید ابڑو رحیم بلوچ ماسٹرحاجی خدائے رحیم سمالانی محمد اقبال یوسفزئی ماسٹر عبدالرحمان خلجی حافظ غلام اللہ محمد صادق رایئجہ ودیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پولیس اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحصیل مچھ کو پولیس اور انتظامیہ نے منشیات کے بپوریوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے جس کی وجہ سے منشیات بلخصوص ہیروئن کے عادی افراد کی تعداد سیکڑوں سے تجاوز کرچکی ہے مچھ شہر کے ہر تیسرے گھر میں منشیات استعمال کرنے والا موجود ہیں منشیات مچھ میں جنگل کی آگ کیطرح غیر معمولی طور پر پھیل رہی ہے جو ایک المیہ ہے منشیات فروش تحصیل مچھ کے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے کیلئے پہلے ہیروئن مفت پلاتے ہیں اور جب عادی بن جاتے ہیں اور وہ معاشرے کیلئے ناسور بن جاتے ہیں تو وہ معاشرے میں دوسرے افراد میں منشیات پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں منشیات بلخصوص ہیروئن چرس شراب کا گورگ دھندہ بااثر شخصیات کی نگرانی میں مچھ میں سرعام چل رہا ہے گزشتہ دنوں لیویز اور پولیس نے مشترکہ کاروائی کرکے صرف ہیروئن کے چار عادی افراد کو گرفتار کرکے اور ایک دو ریلوے کوارٹرز سیل کرکے فوٹو سیشن اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کی کوشش کی گئی جیسے شہری ایکشن کمیٹی مسترد کرتی ہے بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو مچھ کا بچہ بچہ جانتا ہے پولیس اور انتظامیہ کے سامنے دھندناتے پھرتے ہیں پولیس اور انتظامیہ اپنی منتھلی کیلئے اندھی اور بہری ہوچکی ہے ایک گھناونی سازش کے تحت مچھ کی نوجوان نسل کو منشیات شراب جوئے کا عادی بناکر ملک و قوم معاشرے کیلئے ناسور بنایا جارہا ہے عام مشاہدہ یہ ہے کہ کسٹم لیویز اور پولیس کی چیک پوسٹیں منشیات کے سمگلروں کیلئے محفوظ ٹھکانے ہیں جبکہ چیک پوسٹوں پر کاروباری سامان وغیرہ کو دیکھتے ہی بندوق بردار گاڑی کھڑی کرکے بلاجواز سامان چیکنگ کے بہانے اتارتے ہیں اور کاروباری اور شریف شہریوں کو کاغذات کے نام پر ناکوں پر بلاجواز تنک کیا جاتا ہے لیکن منشیات کی سمگلنگ سر عام ہورہی ہے اور انہی چیک پوسٹوں سے گزر کر مچھ پہنچ کر فروخت ہورہی ہے مہینے دو مہینے بعد عوام اور آفیسران کو خوش کرنے کیلئے ڈرامائی انداز میں منشات کے چند کلو منصوبہ بندی کے تحت اسطرح پکڑے جاتے ہیں کہ ملزمان ناکہ توڑکر فرار ہورہے تھے فورس نے ان کا تعاقب کیا تو یہ گاڑی کرکے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے حالانکہ چیک پوسٹوں پر تعنیات اہل کاروں کے ساتھ جدید اسلحہ چلانے اور فرار ہونے والیافراد کو پکڑنے کی مہارت ہوتی ہے لیکن وہ ڈرامہ کرکے خالی ہاتھ واپس آتے ہیں انھوں نے کہا کہ ہماری نوجوان نسل ہماری آنکھوں کے سامنے تباہ ہورہی ہے اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھے تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے ہم لیویز پولیس کسٹم اینٹی نارکوٹیکس کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ منشیات شراب اور جوئے کے اڈوں کیخلاف بلاتفریق اور فوری عملی طور پر حقیقی کاروائی کرے اور اصل منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے سیل مینوں کو گرفتار کرکے پورا نیٹ ورک تحصیل مچھ سے فلفور ختم کرے بصورت دیگر آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی دو ہفتوں کے بعد اپنے سخت احتجاجی شیڈول کا اعلان کریگی جس میں جمہوری طریقے سے احتجاجی مظاہرے احتجاجی ریلی لنک روڑ کی بندش لیویز اور پولیس کسٹم کے دفاترز اور تھانوں کے سامنے دھرنے قومی شاہراہ کی بندش اور مچھ تا کوئٹہ منشیات کے خاتمے کیلئے لانگ مارچ کرکے بلوچستان اسمبلی کے سامنے اپوزیشن جماعتوں کیساتھ احتجاجی مظاہرے و دھرنے دیے جائیں گے جس کی تمام تر زمہ داری پولیس لیویز اینٹی نارکو ٹیکس اور کسٹم پر عاید ہو گی احتجاجی ریلی و مظاہرے میں جمعیت علما اسلام نیشنل پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن پاکستان تحریک انصاف بی این پی انجمن تاجران مچھ جی ٹی اے بی جی ٹی اے آئینی پاکستان پیرا میڈیکل لیبر یونین فیڈریشن سائبان ویلفیئر ٹرسٹ مچھ بولان ادبی سوسائٹی ہیومن واچ بولان سوشل ویلفیئر کے رضا کار و رہنماوں کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی احتجاجی مظاہرے کے بعد مظاہرین پر امن طریقے سے منتشر ہو گئے کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں