ریکوڈک بلوچ قوم کی موت وزیست کا مسلہ بن گیا ہے،،ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ

تربت : نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے کہاکہ ریکوڈک بلوچ قوم کی موت وزیست کا مسلہ بن گیا ہے جیسے کالاباغ ڈیم سندھی قوم کی موت زیست بن چکی ہے۔ بلوچستان کے قومی وسائل کا سودا کسی صورت قبول نہیں، دل جل رہا ہے کہ ہمارے آنکھوں کے سامنے ہمارے وسائل کو لوٹا جارہا ہے، ہرممکن حد تک بلوچستان کے وسائل کادفاع کریں گے، ان خیالات کا اظہار ہفتہ کے روز شام سنگانی سرمیں مرحوم قاضی غلام رسول بلوچ کی رہائش گاہ پر ریکوڈک بچاؤ تحریک کے سلسلے میں کارنر جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ انتہائی افسوس ہے کہ جولوگ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں مگر ریکوڈک کے حوالے سے وہ خاموش ہیں اوران کا کردارمشکوک ہے، اسمبلی کے ان کیمرہ بریفنگ کے فوری بعدانہیں پریس کانفرنس کرکے عوام کو حقائق سے باخبررکھنا چاہیے تھا مگر انہوں نے خاموشی میں عافیت جانی، انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم سندھی قوم کیلئے زندگی وموت کی علامت بن چکی ہے اگر غلطی سے بھی کسی رکن اسمبلی کی زبان سے کالاباغ ڈیم کالفظ نکل جائے تو تمام سندھی یک زبان ہوکر اسے یہ لفظ واپس لینے پر مجبورکردیتے ہیں اسی طرح ریکوڈک بھی بلوچ کے لئے موت وزیست کامسئلہ ہے، اگرریکوڈک ہاتھ سے نکل گیا تو بلوچ کوتباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا، جو لوگ آسمان سرپر اٹھائے ہوئے ہیں مگر بلوچستان کے مسئلہ پر وہ گونگے بنے ہیں نوجوان نوکریاں بیچنے والوں کی چرب زبانی اور ٹویٹر اورواٹس ایپ کی باتوں پر بھروسہ نہ کریں انہوں نے کہاکہ قوم پرستی کو ختم کرنے کیلئے مختلف نعرے آزمائے جارہے ہیں معاشرے سے سیاست ختم کی جارہی ہے سماج کو ڈی پولیٹکلائز کیاجارہاہے بلوچ کیلئے زندگی مشکل سے مشکل بنائی جارہی ہے، بارڈر اورساحل بلوچ سے چھینا جارہاہے، مافیاز اور دلال پیداکئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ جس طرح 2018ء کے عام انتخابات میں ٹھپہ ماری کرنے والے آج رسوا ہوگئے ہیں اورجوٹھپہ ماری کے زورپر آئے ہیں وہ آج عوام کو اپنا چہرہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اسی طرح ریکوڈک کا سوداکرنے والوں کو بھی بے نقاب کیاجائے گا، ریکوڈک کے سوداگربھی سماج میں رسواء ہوں گے،انہوں نے مرحوم قاضی غلام رسول بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ مرحوم قاضی غلام رسول بلوچ نے اپنی پوری زندگی بلوچ قوم کیلئے وقف کی تھی، زمانہ طالبعلمی میں جنرل ضیاء کے دورمیں کوڑے کی سزائیں کاٹیں وہ اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی مصلحت پسندی کاشکارنہیں ہوئے، نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن واجہ ابوالحسن بلوچ نے کہاکہ نیشنل پارٹی کی ریکوڈک بچاؤ تحریک اصل میں بلوچستان بچاؤ تحریک ہے، نااہل سلیکٹڈ حکومت کے نااہل وزراء اورمشیروں نے ملک کوتباہ کرکے رکھ دیا، معیشت کی تباہی کے بعداب ان کی نگاہیں بلوچستان کے وسائل پرلگی ہیں مگریہ وسائل کسی کی میراث نہیں، نیشنل پارٹی اوربی ایس اوپجار ساحل وسائل کادفاع کریں گے، نیشنل پارٹی کے مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فداحسین دشتی نے کہاکہ سیاسی سوداگروں کی اصلیت عوام کے سامنے ظاہرہورہی ہے، نیشنل پارٹی کی یہ آواز سوداگروں کے کانوں میں گونج رہی ہے انہیں اس تحریک سے تکلیف پہنچ رہی ہے انہوں نے کہاکہ میں نے گزشتہ روزگوادرمیں بارڈرمنیجمنٹ کمیٹی کی میٹنگ میں بطور صدر چیمبرآف کامرس کوئٹہ صدرمملکت کے سامنے یہاں کے عوامی ایشوز بارڈر، ماہی گیری ودیگر معاملات رکھے اورچیئرمین ایف بی آر کو بارڈر پرلے گیا اور بل نگور سمیت تمام سرحدی اضلاع میں بارڈر گیٹ وے کھولنا یقینی بنایا، نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے نائب صدر طارق بابل نے کہاکہ آج کایہ جلسہ اس عظیم شخصیت، نڈر مخلص، نظریاتی سیاسی رہنما قاضی صاحب کی رہائش گاہ پر منعقدہورہی ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ اوربلوچستان کیلئے وقف کررکھی تھی آج مرحوم قاضی صاحب کی کمی شدت کے ساتھ محسوس ہورہی ہے ڈاکٹرمالک اور قاضی صاحب کی قائدانہ سوچ نے تربت کانقشہ بدل کررکھ دیا، انہوں نے کہاکہ قوم پرستی کے لبادے میں وسائل کے سودے میں شریک جرم عناصرکوبے نقاب کیاجائے گا وسائل کے رکھوالے ہم ہیں جب تک نیشنل پارٹی کاایک کارکن زندہ ہے وسائل کاسوداہونے نہیں دیں گے، نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن نثار احمدبزنجو نے کہاکہ بلوچستان میں اگرکوئی سیاسی پارٹی حقیقی معنوں میں عوام میں وجودرکھتی ہے تووہ نیشنل پارٹی ہے یہ بلوچ سیاست کی والی وارث ہے،نیشنل پارٹی ورکنگ کمیٹی بلوچستان کے رکن بلخ شیرقاضی نے کہاکہ نہ صرف ریکوڈک بلکہ تمام وسائل اور ساحل کے دفاع کی صلاحیت اگرکسی پارٹی میں ہے تووہ نیشنل پارٹی ہے نیشنل پارٹی بلوچ وسائل پر کسی قسم کی مصلحت پسندی کو گناہ سمجھتی ہے، ترقی اورخوشحالی کے دعویداروں کے دورمیں خاکروب3مہینوں سے تنخواہوں سے محروم ہیں، ہسپتال میں پیناڈول دستیاب نہیں، ڈائیلسز یونٹ بند ہوگئی ہے، جلسہ سے بی ایس اوپجارتربت زون کے صدرباہوٹ چنگیز، معتبر شیرجان، محمدطاہربلوچ، حاجی رحیم بخش چیف، احسان درازئی نے بھی خطاب کیاجبکہ تلاوت قرآن پاک کی سعادت محمد سلیم صالح نے حاصل کی، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مسعودبلوچ نے سرانجام دئیے، جلسہ میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن محمد جان دشتی، ضلعی جنرل سیکرٹری، فضل کریم،بی ایس او کے مرکزی وائس چیئرمین بوھیر صالح، انور اسلم،نثار آدم جوسکی، نوید تاج،سیٹھ حاجی غلام یاسین،،واجہ قادر بخش،شے غلام قادر بلیدی، رجب یاسین، حاجی محمد ہاشم، جمال شکیل، واجہ حمل،محمداقبال بلوچ، شیر باز قاضی،وہاب خورشید، عثمان مالک،کہدہ عزیز دشتی،ظفر بلوچ،نعیم عادل،حفیظ علی بخش،ولی جان نعیم،حاجی معراج،کامریڈرؤف شہزاد،عدنان نصیر،گلزار کریم،سیف اللہ،کریم نور،ثناء اللہ بزنجو،اکرام گچکی سمیت نیشنل پارٹی کیچ اور بی ایس او کے رہنما وکارکنان کثیرتعدادمیں شریک تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں