بندوق کی نوک پر سب کچھ منوایا جا سکتا ہے، صدارتی نظام چنگاری نہیں جو کسی کے جلانے سے جلے گی،امان اللہ کنرانی
کوئٹہ:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر(ر) امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام کی طلسماتی،imaginary بحث ماں کے پیٹ میں ایک بچے کی عمر کی مانند یعنی 7 یا زیادہ سے زیادہ 9 مہینے تک چلے گی جوبچے کی صحیح باسلامت پیدائش کے بعداْمید کی آس ختم ہوجائے گی اور جھاگ بیٹھ جائے گی۔ یہ بات انہو ں نے اپنے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہاکہ کْچھ لوگ بے وقوف ہوسکتے ہیں کچھ کو بے وقوف بنیایا جاسکتا ہے جو اس بحث کو TV ٹاک شوز پر زندہ رکھ کر کسی کے لئے سہولت کار بن سکتے ہیں جو کسی کی شہ رگ یا کن پٹی پر بندوق رکھ کر کچھ منوانا چاہتے ہیں ورنہ سب ذی شعور جانتے ہیں کہ صدارتی نظام ایسا چراغ یا چنگاری نہیں جو کسی کے پھونک مارنے سے جلے گا اور اس شمع کے روشن ہو نے سے صدارتی نظام کا چراغ روشن ہوگا جبکہ صدارتی نظام کو پہلے آئین کی ترمیم کے پْل صراط پر رسے گزرنا پڑے گا پھر سپریم کورٹ کے فیصلے PLD 2000 SC 869 سید ظفر علی شاہ کی کیس میں ایک درجن کے سپریم کورٹ جج صاحبان کے فیصلے کی چھلنی سے چھاننا ہوگا اور آئین کے آرٹیکل 189 کی رکاوٹ کو عبور کرنا ہوگا جس میں پارلیمانی نظام کو تبدیل نہ کرنے کا حکم دیا گیاان مشکلات کو عبور کرنا جوئے شیر دارد کی مانند ہے اورپھر آج کمانڈر ان چیف ایوب خان ترین کا زمانہ ہے اور نہ امریکہ سمیت عرب ممالک کی Romance باقی ہے جس کے زور پر مارشل لاء لگا کر صدارتی فرمان جاری ہوسکے اب توہم طالبان کی اپنی دوست حکومت سمیت ایم کیوایم کی اپنی تخلیق کے عملیات کے خاتمے کی بجائے انکی حیثیت و حقیقت کو تسلیم کرکے ریاست کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیااب غْبارے میں سے ہوا نکل چْکی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے مقابلے میں عرب اسرائیل سے جبکہ طالبان ایران سے براہ راست دوستی کی ہاتھ بڑھا چکے ہیں اب پاکستان کا Strategic Depth&Strategic PartnerShip کا دعوی ہوا میں اْڑ گیا اور وجود بے وزن ہوگیا ہے۔


