بلوچستان کے رزلٹ پر نظر ثانی نہ ہوئی تو احتجاج پر مجبور ہونگے،طلباء علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی

گلستان:علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی طلبہ کے مستقل کے ساتھ کھیل رہے ہیں،طلبا،حکومت وقت اور وائس چانسلر سے اس حالیہ رزلٹ پر نظرثانی کی اپیل کرتے،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی جو ملک کے سرفہرست یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے جو فاصلاتی طرز کے تعلیم ملک اور بیرون ملک کے بچوں کو دے رہے ہیں حال ہی میں بیچلرز کلاسوں کا جو رزلٹ جاری کیا گیا اس میں تقریبا زیادہ سے زیادہ بچوں کو فیل کیا گیا تھا ہر روز یونیورسٹی فیسوں میں اضافہ کرتا ہے جو غریب اور لاچار طلبہ کے بس سے باہر ہے باوجود غربت کے تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن یہاں یونیورسٹی ہر روز طلبہ پر ایک نیا پالیسی لاگو کرتا ہے سوالیہ پیپر پر پاسنگ مارکس 40 ہوتا ہے لیکن طلبہ نے 58 نمبرز لیکر بھی فیل کیے گئے ہیں اکثریت طلبہ کا کہنا ہے کہ ہم نے پیپرز کو بہت ہی محنت سے حل کئے ہیں لیکن نتیجہ بلکل اس کے برعکس ہے جو پیپرز مانگے تھے اسی طرح حل کئے گئے مگر نتیجہ حیران کن تھابلوچستان کے اکثریت طلبہ کا کہنا ہے کہ ہم وفاقی حکومت اور وائس چانسلر علامہ اقبال یونیورسٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس رزلٹ پر نظرثانی کریں ورنہ ہم شدید احتجاج پر مجبور ہونگے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں