بلوچستان کی عوامی ترقی کاغذوں میں، حکمران بذات خودخاندان سمیت مالامال ہوئے،مولانا ہدایت الرحمان بلوچ

کوئٹہ: حق دو تحریک کے قائد جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے کہاکہ بلوچستان میں عوامی ترقی کاغذوں میں جبکہ حکمران بذات خودخاندان سمیت مالامال ہوئے عوام کیلئے وعدے اوردعوے اورحکمران عوام وسائل ہڑپ کرنے میں مصروف ہیں عوام کولولی پاپ دیا جارہا ہے جبکہ حکمران ومنتخب نمائندے عوامی حقوق سلپ کر رہے ہیں۔75سالوں سے عوام کو سبزباغ دکھایا جارہا ہے وعدے کیے جارہے ہیں عملی طور پر کچھ نہیں جو بھی حکومت آجائے سابقہ پر الزامات وناکامیوں کا ملبہ ڈال دیا جاتا ہے خود عوام کیلئے کچھ نہیں چاہتے اور مسائل ومشکلات اورپریشانیوں کی کوئی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔بارڈر وساحل پر بھتہ خوری،صوبہ بھر میں منشیات کی بہتات، حکومتی سطح پر لوٹ مار،روزگار برائے فروخت،جائز کاروبار کی راہ میں ناجائز رکاوٹیں،بے گناہ لاتعلق افراد کا اغواء،سیندک ریکوڈک،سی پیک کے ثمرات سے عوام کو محروم اور مقتدر قوتوں کو نوازنا،سیاسی قوتوں منتخب نمائندوں اور حکومتوں کے چُھپ ک روزہ کاب ٹھوٹے گایہ ناجائز یہ ظلم کب تک جاری ہوگا جائز عوامی مسائل ومشکلات اورپریشانیوں سے عوام کو نجات دلانے اور حکمرانوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے ہر سطح پر جدوجہد کریں گے ہم اپنے وسائل اپنے عوام پر خرچ کرنے،لوٹ مار کا خاتمہ،روزگار اور عزت کا تحفظ چاہتے ہیں حکمران عوام سے کیے گیے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے حق تحریک کے مطالبات مان لیں بصورت دیگر ہم احتجاج کو مزید وسعت دیں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے گوادرکے مختلف علاقوں میں تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ حق دو تحریک بلوچستان کے مظلوم عوام حکمرانوں سے جائز آئینی حقوق چھین لیں گے۔حکمران دیانت داری سے عوام کو انکے حقوق دے دیں حکمرانوں کی بے حسی غفلت وکوتاہی وبدعنوانی کی وجہ سے عوام پریشان بدحال اور مشکلات غربت وبے روزگاری کاشکارہیں۔بے حس غافل حکمرانوں اور سودساختہ بااختیار قوتوں کی وجہ سے بلوچستان اورکراچی سمیت ملک بھر کے عوام مشکلات بے روزگاری اورپریشانی کے شکار ہیں۔گوادر کے عوام کی طرح دیگر عوام بھی ساتھ دیں توانشاء اللہ حکمرانوں کوغفلت ونیندسے بیدار کرکے حقوق دینے پر مجبور کریں گے۔بلوچستان بلخصوص مکران ڈویژن کے عوام بھی بیدار ہوئے ہیں۔ بلوچستان کے غیرت مند عوام مزید زیادتی،ظلم وجبر برداشت نہیں کریگی حق دو تحریک کے ذریعے بلوچستان میں ظلم وجبر ختم اور منشیات کے کاروبار کرنے والوں کا گیراتنگ کریں گے۔منشیات فروشوں کو ملک کے حکمرانوں او رسودساختہ بااختیار طبقوں کی آشیر باد حاصل ہے مالی مفادات کیلئے کچھ لوگ ہماری نسلوں کو تباہ اور انسانیت کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔گوادر مکران کے عوام جاگ گیے ہیں انشاء اللہ بلوچستان کے دیگر علاقوں کے عوام بھی بیدار ہوں گے اور حق دوتحریک کا ساتھ دیکر نام نہاد نعرے وعوے کرنے والوں کو مستر دکریں گے۔کئی دہائیوں سے بلوچستان کے وسائل ہڑپ کیے جارہے ہیں اور اس جرم میں سب کے سب برابرکے شریک ہیں۔لیکن اب ایسانہیں ہوگا بلوچستان کے وسائل بلوچستان پر خرچ ہوگی۔بلوچستان میں اہل بلوچستان وسائل کے مالک ہوگی گھر کے سامنے بے عزت ہو کر شناخت نہیں بتائیں گے بلکہ باہر سے آنے والوں کو مقامی لوگوں کی قدر وعزت کرنے کا پابند بنائیں گے کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوگا۔منشیات فروشوں اور عوامی قوت سے عوام کو لوٹنے والوں کو بے نقاب کرکے ظلم وجبر لوٹ مار اور انسانیت دشمنی ووسائل کی لوٹ مار سے روکھیں گے۔ گوادر کوملک کی ترقی کا گیٹ وے اور سی پیک سٹی کہا جاتا ہے مگر مقامی آبادی پینے کے پانی،تعلیم وصحت اور عزت تک کیلئے کو ترس رہی ہے۔ بلوچستان میں ہماراے بچے بھوکے سوتے ہیں روزگار نہیں ہے چند لوگ وسائل پر قبضے کرکے لوٹ مار میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے ہم پریشان،حکمران ناکام اور خودساختہ بااختیار بننے والے تماشاکر رہے ہیں۔ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق صوبے کے عوام کا ہے۔کوئی مائی کا لال بلوچستان کے عوام سے ان کا حق نہیں چھین سکتا۔گم شدہ افراد کا مسئلہ سالوں سے حل نہیں ہورہا،والدین اپنے پیاروں کی شکلیں دیکھنے کو ترس گئے۔سی پیک گوادر کی وجہ سے ہے اس کے ثمرات پورے ملک کو ملیگی لیکن زیادتیوں کی وجہ سے اہل بلوچستان میں احساس محرومی ردعمل اور غم وغصہ پایا جاتا ہے۔بدقسمتی سے ہم پر ہمیشہ ایسے لوگ مسلط ہوجاتے ہیں جو کوصرف اپنی ذات کی فکر ہوتی ہے انہیں معصوم ومظلو م اورپریشان حال عوام یا ووٹرزکاکوئی فکر نہیں جماعت اسلامی ایسے ظالموں کو معاف نہیں کریگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں