اسٹیٹ بینک سے قرض لینے پر پابندی سے حکومت کی مشکلات بڑھ جائیں گی، ڈاکٹر اشفاق حسن

اسلام آباد، : اقتصادی ماہرین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ترمیمی بل 2021 کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے قانون کے تحت حکومت کے لیے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے پر پابندی ہوگی جس سے حکومت کی مالی مشکلات بڑھ جائیں گی تاہم ماہرین نے بل کو مرکزی بینک کے لیے مثبت قرار دیا۔ ملک میں معیشت کی صورتحال سے متعلق رپورٹس جاری کرنے والے معروف ادارے ”ویلتھ پاک ” کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ ترمیمی بل سے اسٹیٹ بینک کو معاشی نقصانات سے بچنے کے لیے مانیٹری پالیسی اور شرح مبادلہ میں ایڈجسٹمنٹ کی مکمل آزادی مل جائے گی۔ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازوں کو بل کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑے فرق کی وجہ سے ملک خسارے میں ہے۔ان کا موقف تھا کہ اخراجات کے مقابلے میں آمدنی کم ہے جس کی وجہ سے ہر ماہ خسارہ بڑھ رہا ہے ان حالات میں اگر حکومت اسٹیٹ بینک سے قرضہ نہیں لے سکے گی تو کمرشل بینکوں سے قرضہ لینے پر مجبور ہوگی۔حکومت کا کمرشل بینکوں پر انحصا بڑھنے سے نجی شعبہ ان بینکوں سے قرض حاصل نہیں کرسکے گا ترقی کا عمل متاثر ہوگا۔اور نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔تاہم، پائیدار ترقی کے ادارے (ایس ڈی پی آٗیی) کی پالیسی لیب کے چیف ڈاکٹر ساجد امین جاوید کا موقف ہے کہ کہ یہ بل درست سمت میں ایک قدم ہے لیکن اسے آئی ایم ایف کے دباؤ میں قانون سازی کے ذریعے اس کے موثر ہونے میں کمی ہوجائے گی۔”اس سے مرکزی بینک اور مانیٹری پالیسی کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچے گا۔ اس لیے بل پر وسیع البنیاد بحث کی ضرورت ہے۔ویلتھ پاک سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کو کسی بھی سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہونا چاہیے اور اسے مانیٹری پالیسی کی تشکیل اور شرح مبادلہ میں ایڈجسٹمنٹ میں مکمل آزادی ہونی چاہیے کیونکہ حکومت کی مداخلت سے معاشی نقصان ہوتا ہے۔پارلیمینٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے والے اس ترمیمی بل کے تحت اسٹیٹ بینک حکومت، یا کسی سرکاری ادارے کو براہ راست قرض نہیں دے سکے گا اور نہ ہی کوئی مالی ضمانت دے گا۔ اسٹیٹ بینک پرائمری مارکیٹ میں حکومت یا حکومت کے زیر ملکیت کسی اداریکی طرف سے جاری کردہ سیکیورٹیزنہیں خرید سکے گا۔اس بل کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سینئر ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ایک بیان میں کہا کہ ان ترامیم کے بعد بینک (زیادہ تر غیر ملکی) ونڈ فال منافع کمائیں گے، سرکاری قرضوں کی فراہمی مہنگے نجی قرضوں سے مزید بوجھل ہو جائے گی اورمہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام کو مزید نقصان پہنچے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں