بلوچستان کے ضلع کوہلو میں مسیح برادری کے مسائل کیوں بڑھ رہے ہیں؟
رپورٹ محمد طاہر مری انتخاب۔
کوہلو کا شمار بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ اضلاع میں ہوتا ہے ڈھائی لاکھ نفوس کی آبادی پر مشتمل یہاں کے شہر یوں کو ہمیشہ بنیادی سہولیات کا شدید فقدان رہا ہے ضلع کوہلو کے دوردراز علاقوں میں بنیادی سہولیات سے شہری پریشان ہیں ہی وہی تحصیل کوہلو کے وسط میں موجود اقلیتی برادی کرسیچن کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مسیح برادری کے لوگ بھی بنیادی مسائل میں گھیرے ہوئے ہیں
مسیح برادری کے لوگ کوہلو میں کیسے آئے
جمعہ مسیح جن کی عمر 52 سال ہے وہ بتاتے ہیں کہ ان کے چچا 1973میں اس وقت یہاں آئے جب وہ ایف سی میں ملازمت کرتے تھے یوں ہمارے خاندان کے دیگر چند ایک گھر یہاں منتقل ہوگئے مگر اب یہاں گزشتہ پانچ دہائیوں سے اس شہر میں آباد ہیں یوں یہاں ان کی آبادی بڑھتی گئی اور اس وقت 50گھرانوں پر مشتمل 300کے قریب افراد آباد ہیں۔
بڑھتی آبادی اور محدود جگہ
نقاش مسیح بھی اس محلے میں رہتے ہیں اور ان کی عمر34سال ہے نقاش بتاتے ہیں کہ بقول ان کے والد یہاں شروع میں چند گھر آباد ہوئے تھے مگر اب مسیح آبادی کافی بڑھ چکی ہے اور رہنے کی گنجائش ختم ہوچکا ہے اس لئے حکومت کو اقدامات اٹھانے ہوں گے کیونکہ یہاں آباد لوگوں کے پاس اتنے وسائل نہیں جو اپنے لئے زمین اور گھر خرید سکیں جبکہ ہم کیمونٹی کے بغیر رہ نہیں سکتے ہیں۔

مردوں کو دفن کرنے کیلئے قبرستان میں جگہ ختم !
نقاش مسیح مزید بتاتے ہیں کہ ہمارے لوگ ڈپٹی کمشنر ہاوس سے متصل ڈوگری قبرستان میں اپنے مردوں کو دفن کرتے آئے ہیں مگر گزشتہ دو سال سے اب وہاں کی محدود جگہ بھی ختم ہوگئی ہے جس کے نتیجے میں ان کے پیاروں کی قبریں دیگر لوگوں میں مکس ہورہے ہیں جن سے ان کے قبروں کی پہچان اور دیکھ بحال میں مشکلات درپیش ہیں حکومت اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھائے تاکہ قبرستان کا اہم مسئلہ ختم ہوسکے۔
ضلع کی واحد عبادت گاہ بھی توجہ کا منتظر
کوہلو میں 300سے زائد مسیح برادری کے افراد کیلئے تحصیل آفس کے ساتھ موجود ان کی واحد عبادت گاہ چرچ بھی زبوحالی کا شکار ہونے ہے بوسیدہ کمروں اور بارش میں ٹپکتے چھت سے مقامی لوگوں کو عبادت میں مشکلات کوئی نئی بات نہیں۔
مسیح خواتین کو کن مشکلات کا سامنا ہے؟
قبائلی علاقہ ہونے کی وجہ سے مسیح خواتین کو چرچ جانے آنے میں مشکلات کے ساتھ ساتھ انہیں علاقے میں روزگار کے حصول کیلئے بھی مشکلات کا سامنا ہے جس میں کئی دیگر مسائل بھی حائل ہیں۔
ملازمتوں میں اقلیتی کوٹہ میں بڑھتی مایوسی کیوں ہے؟
امین مسیح کی تعلیمی قابلیت بیچلر ڈگری ہے اور وہ گزشتہ 5 سال سے مختلف خالی آسامیوں پر درخواستیں جمع کرچکے ہیں مگر انہیں کسی بھی پوسٹ پر کوٹے میں بھرتی نہیں کیا گیا وہ سمجھتے ہیں کہ اقلتوں کے کوٹے کے نام پر ملازمتوں کے اشتہار دئیے جاتے ہیں مگر ملازمتیں نہیں۔ جس سے اُن سمیت نوجوان نسل مایوسی کے شکار ہونے کے ساتھ ساتھ بیروزگار بھی ہیں ماضی قریب میں ان کے لوگوں کو اقلیت کے مخصوص کوٹے پر کلاس فور کی ملازمتیں دی گئی تھی مگر اب یہ عمل عدم دلچسپی کا شکار ہے۔
شناختی کارڈ ہے مگر شناخت نہیں۔
بسنے والے اکثر وبیشتر افراد نے اپنے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انتخاب کو بتایا کہ انہیں سماج میں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے ان کی شناخت لوگوں کے سامنے ہمیشہ سے ایک اہم چیلج ثابت ہوا ہے۔
لوٹ کر کہاں جائیں؟
یہاں کئی سالوں سے بسنے والے مسیح برادری کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر وہ یہاں سے جائیں تو لوٹ کر اب کہاں جائیں کیونکہ ان کا کوئی مخصوص یا ذاتی جگہ کہی بھی نہیں ہے اس لئے وہ یہاں رہے گے اور بلوچستان کی صوبائی حکومت اور وفاقی و صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انکے بنیادی مسائل کو فوری حل کیا جائے تاکہ وہ بھی باعزت طریقے سے زندگی گزار سکیں۔
کوہلو کی ضلعی انتظامیہ کیا کہتی ہے؟
اس حوالے سے جب انتخاب نے کوہلو کے ضلعی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو اسسٹنٹ کمشنر کوہلو عبدالستار مینگل نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ چرچ سمیت ان کے کمیونٹی کو سیکورٹی فراہم کی ہوئی ہے تاکہ انہیں کسی قسم کا مسئلہ نہ ہو۔تاہم قبرستان اور ان کے کمیونٹی کے رہنے کیلئے سابق ڈپٹی کمشنر عمران بنگلزئی نے مختلف سائیڈ ایریہ کا دورہ کیا تھا مگر سرکاری جگہ اور زمین نہ ہونے سے معاملہ طعطل کا شکار ہوا ہے اس حوالے سے جوہی کوئی پیش رفت ہوگس ضلعی انتظامیہ ہرممکن مدد فراہم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی۔


