امریکا کی جانب سے افغانستان کے منجمد اثاثے جزوی طور پربحال
نیویارک: امریکا کی جانب سے افغانستان کے منجمند اثاثے جزوی طور پربحال کر دیے گئے ہیں۔منجمند اثاثے میں 7 ارب ڈالرز میں سے آدھے نائن الیون متاثرین کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ساڑھے تین ارب ڈالر افغان انتظامیہ کو ایک مکینزم کے تحت دیے جائیں گے۔پاکستانی وزیراعظم اور اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم کی مسلسل کوششوں اورلابی نے منجمد اثاثے بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر منیر اکرم نے افغان اثاثے بحالی پہ اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شروعات اچھی ہے مگر افغانستان کے آدھے اثاثے اپنے شہریوں میں تقسیم نا قابل فہم ہے۔انکا کہنا ہے کہ منجمد اثاثوں میں سے کسی کو 9/11 خاندانوں کو جانے کی اجازت دینا غلط ہے، کیونکہ کسی بھی افغان نے 9/11 کا ارتکاب نہیں کیا اور یہ رقم افغان عوام کی ہے، جن کا اس حملے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
طالبان نے ان فنڈز کے حقوق کا دعویٰ کیا ہے جس میں کرنسی اور سونا جیسے اثاثے شامل ہیں، لیکن افغانستان کی جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد امریکا نے ان تک رسائی سے انکار کر دیا ہے۔طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے افغانستان کے لیے تمام فنڈز کو غیر منجمد نہ کرنے پر امریکا پر تنقید بھی کی ہے۔
واضح رہے کہ ماضی میں طالبان نے تنبیہ کی تھی کہ افغانستان کے منجمد فنڈز کو واپس نہ کرنا ’مسائل‘ کا باعث بن سکتا ہے جس کے باعث نہ صرف اقتصادی طور پر افغانستان مزید متاثر ہوگا بلکہ بڑی تعداد میں لوگ پناہ لینے کے لیے ملک چھوڑنے کی کوشش کریں گے۔
اگست 2021 میں طالبان کے کنٹرول میں آنے کے بعد سے ملک کی معاشی حالات مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور اقوام متحدہ نے خدشہ کا اظہار کیا کہ 2022 کے وسط تک ملک میں غربت کی شرح 97 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔


